یمن کے خلاف جنگ میں سعودی رجیم اور غاصب اسرائیل کی خفیہ فوجی ہم آہنگی بے نقاب
سعودی رجیم, اسرائیل
شیعیت نیوز : یمن کے خلاف مسلط کردہ ظالمانہ جنگ میں ظالم سعودی رجیم اور غاصب صہیونی ریاست (اسرائیل) کے درمیان خفیہ فوجی ہم آہنگی اور گٹھ جوڑ مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے۔ حالیہ تجزیاتی رپورٹس کے مطابق، یمن کی مسلح افواج کے خلاف سعودی رجیم اور اسرائیل کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور نجی فوجی روابط میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کی سرپرستی براہ راست امریکہ کر رہا ہے۔
صہیونی پبلک براڈکاسٹر ‘کان’ کی رپورٹ اور سامنے آنے والے تجزیوں کے مطابق، اسرائیل نے یمن کے اندر وحشیانہ حملوں اور اہداف کے تعین (ٹارگٹ بینک بنانے) کے لیے سعودی رجیم کو حساس انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس خفیہ تعاون کی کڑیاں جرمنی تک جا ملتی ہیں، جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی زیرِ نگرانی ہونے والے ایک نجی اور خفیہ فوجی اجلاس میں سعودی رجیم اور صہیونی فوجی عہدیداروں نے ایران اور یمن کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں : شیعہ علماء کونسل ضلع جھنگ کا اہم تنظیمی اجلاس، تنظیمی فعالیت اور استحکام کے لیے اہم فیصلے
اس خونی گٹھ جوڑ اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے نتیجے میں سعودی جارحیت کا براہ راست نشانہ یمن کے نہتے شہری، بازار، اسپتال، اسکول اور رہائشی عمارتیں بن رہی ہیں۔ حال ہی میں یمن کے صوبہ تعز کے ایک عوامی بازار پر ہونے والے وحشیانہ حملے میں 7 بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ تجزیے کے مطابق، بحیرہ احمر کے قریب یمن کے مغربی ساحل پر کنٹرول حاصل کرنا اس خطے میں سعودی-صہیونی صف بندی کا اصل ہدف اور مرکز ہے۔
دوسری جانب، میدان جنگ میں ملنے والی ہزیمت اور عالمی سطح پر رسوائی کو چھپانے کے لیے سعودی رجیم سے وابستہ درباری علماء کو میدان میں اتارا گیا ہے، جو اپنی زہریلی فرقہ وارانہ بیان بازی کے ذریعے اس غیر انسانی جنگ کے لیے عوام کی حمایت متحرک کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں۔







