ایرانی سفارت کاروں کی ملک بدری کا امریکی دعویٰ اس کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، ایرانی وزیر خارجہ
سید عباس عراقچی
شیعیت نیوز : اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا دعویٰ انتہائی عجیب اور دراصل امریکی حکام کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔ تہران میں تعینات غیر ملکی سفیروں اور سفارتی مشنز کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ایرانی صدر اور وفد کی بھرپور اور مؤثر سفارتی موجودگی کو سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے نیویارک میں موجودہ اختلافات کے حل اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک جامع 7 روزہ منصوبہ پیش کر کے عالمی سطح پر ایران کو تنہا کرنے کے امریکی اور مغربی تصورات کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سیدہ معصومہ شیرازی کی کتاب ’’صدائے ابابیل‘‘ کی تقریب رونمائی، مزاحمتی شاعری مظلومین کی امید ہے، مقررین
ایرانی وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پوری دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ ایران سفارت کاری اور پرامن حل کے لیے مکمل سنجیدہ ہے، تاہم اپنے دفاع کے معاملے میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہم اپنے دفاع کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہیں، اگر دشمن نے فوجی مہم جوئی کی غلطی کی تو اسے ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت اور تباہ کن جواب ملے گا، لیکن اگر وہ سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے تو ایران ایک باعزت حل کے لیے تیار ہے۔ سید عباس عراقچی نے خلیجی ممالک کے حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے اسے خطے کے استحکام اور تعلقات کے ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا۔
مزید برآں، انہوں نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کے حوالے سے اپنے مؤقف پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے نیٹو سیکریٹری جنرل کے اس مبینہ اعتراف کو انتہائی سنگین قرار دیا جس میں یورپ کے اڈوں سے ایران کے خلاف 5 ہزار سے زائد جنگی طیاروں کی پروازوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اس پر یورپی ممالک سے فوری وضاحت طلب کی ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ امریکا ماضی میں جنگ بھی ہار چکا ہے اور سفارت کاری میں بھی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، پابندیاں اور فوجی دھمکیاں بے سود ہیں، صرف سفارتی حل ہی ایران کے خلاف اس جارحیت کے خاتمے میں مدد دے سکتا ہے۔







