اقوام متحدہ میں ایرانی صدر کا خطاب، امریکہ اور اسرائیل پر کڑی تنقید، رہبر شہید کی تصویر جنرل اسمبلی میں بلند

23 ستمبر, 2026 19:40

شیعیت نیوز : ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے ایران کو دہشت گرد قرار دیا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ جو لوگ خود دہشت گردی کرتے اور دہشت گردوں کی تربیت کرتے ہیں، وہ ہمیں دہشت گرد کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ نے خود ایران کے رہبرِ شہید کو نشانہ بنایا، اور اس موقع پر اقوام متحدہ میں ایرانی وفد کی جانب سے رہبرِ شہید کی تصویر بھی بلند کی گئی۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران نے گزشتہ 200 سالوں میں کسی ملک پر حملہ نہیں کیا لیکن ہم پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایران کے شہر لامرد کی مثال دی جہاں ایک اسپورٹس کمپلیکس کو کلسٹر بموں سے تباہ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے دفاعی نظام اس لیے بنایا ہے تاکہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ ایرانی شہروں پر حملے کا کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، اور ہم اپنا دفاع کرنے کے لیے کسی سے اجازت نہیں لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی مرضی سے جس ملک پر چاہے حملہ کرتا ہے، جبکہ حقیقت میں امریکہ اور اسرائیل ہی خطے میں بدامنی کی بنیادی وجہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی صدر کی سعودی رجیم کے شاہ سلمان اور ولی عہد کو مبارکباد

ایرانی صدر نے عالمی برادری کے دہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایٹم بم اور دیگر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اسرائیل کے پاس ہیں، لیکن معائنے کا مطالبہ ایران سے کیا جاتا ہے۔ انسانوں کا قتلِ عام اسرائیل کر رہا ہے، لیکن پابندیاں ایران پر عائد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس قدر مضحکہ خیز ہے کہ اگر کسی کو بتایا جائے تو وہ اس پر ہنسے گا۔ ایران کوئی خصوصی رعایت نہیں بلکہ مساوی حقوق چاہتا ہے، اگر ہم انصاف کے خواہاں ہیں تو دوست اور حریف کو ایک ہی معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی عوام گزشتہ سات ماہ سے شب و روز سڑکوں پر موجود ہیں اور حکومت عوام کی اسی طاقت کے بل بوتے پر استقامت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی فوجی طاقت صرف دفاع کے لیے ہے، ہم سفارت کاری پر یقین رکھتے ہیں لیکن فوجی دباؤ کے سامنے کبھی سرِ تسلیم خم نہیں کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ قبول نہیں کہ آبنائے ہرمز سے سب فائدہ اٹھائیں اور ایران محروم رہ جائے، اور یہ بھی واضح کیا کہ فلسطین میں امن کے بغیر مغربی ایشیاء میں پائیدار امن ہرگز قائم نہیں ہو سکتا۔

8:24 شام ستمبر 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔