سعودی ریال خور، شرابی ملاطاہر اشرفی اور اس کے بدنامِ زمانہ بھائی کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ
سعودی ریال خور، شرابی ملاطاہر اشرفی
شیعیت نیوز : لاہور میں سول سوسائٹی نیٹ ورک پاکستان نے برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ میں نام نہاد عالم دین حافظ طاہر محمود اشرفی اور ان کے بدنامِ زمانہ بھائی حسن معاویہ اشرفی کے گھناؤنے جرائم پر مبنی تہلکہ خیز رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف سے اس شرمناک معاملے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا پرزور مطالبہ کر دیا ہے۔
سول سوسائٹی نیٹ ورک کے صدر عبداللہ ملک ایڈووکیٹ کی جانب سے وزیراعظم کو ارسال کیے گئے خط میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ 24 ستمبر 2026 کو دی ٹیلی گراف نے ان دونوں بھائیوں کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ میں توہین مذہب کے حساس قوانین کے مبینہ غلط استعمال، معصوم شہریوں کو بلیک میل کرنے، اغوا، وحشیانہ تشدد اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہنی ٹریپ جیسے شرمناک اور سنگین نوعیت کے الزامات کی قلعی کھولی گئی ہے۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ اخبار نے پولیس چالانوں اور ریکارڈ کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں کہ کس طرح حسن معاویہ اشرفی نے توہین مذہب کی جھوٹی شکایات درج کرانے کا دھندہ بنا رکھا ہے اور متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو اغوا کر کے ان سے بھاری رقوم کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سی ٹی ڈی کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے 13 را فنڈڈ دہشتگرد گرفتار
عبداللہ ملک نے مطالبہ کیا ہے کہ اگرچہ حتمی فیصلہ عدالت کا ہوگا، لیکن اتنے سنگین الزامات کے بعد متعلقہ ایف آئی آرز، پولیس ریکارڈ، چالان، اور تفتیشی رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لینا حکومت کی ذمہ داری ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کون سا افسر ان جرائم پیشہ افراد کی سہولت کاری اور پشت پناہی کر رہا ہے۔
تنظیم نے حافظ طاہر محمود اشرفی جیسے متنازع شخص کی سرکاری اور بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کو بھی ملک کے لیے باعثِ تشویش قرار دیتے ہوئے اس کی فوری جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ عبداللہ ملک کے مطابق، اگر اس شفاف تحقیقات میں یہ گھناؤنے الزامات ثابت ہو جائیں، تو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر قانون کی دھجیاں اڑانے والے ان افراد کو نشانِ عبرت بنایا جانا چاہیے تاکہ کوئی اور مذہب کے نام پر شہریوں کی زندگیاں تباہ نہ کر سکے۔







