یمن پر سعودی رجیم کی جارحیت دراصل امریکی ایجنڈا ہے، انصار اللہ رہنما محمد البخیتی
محمد البخیتی
شیعیت نیوز : یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے اہم رکن محمد البخیتی نے واضح کیا ہے کہ انصار اللہ نے قیام امن کے لیے کئی بار مذاکرات کا مطالبہ کیا، لیکن بالآخر تعز کی صورتحال نے دھماکہ خیز رخ اختیار کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کی مسلح افواج تعز کی صورتحال کو انتہائی اہمیت دیتی ہیں اور وہاں کے عوام سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ مغربی ساحل میں پیش آنے والے تلخ واقعات کو یاد رکھیں اور دشمن کی سازشوں سے ہوشیار رہیں۔
محمد البخیتی نے یمن پر مسلط کی گئی جنگ کے اصل محرکات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی رجیم کی جانب سے یمن کے خلاف کی جانے والی جارحیت دراصل امریکی جارحیت ہے اور یہ مکمل طور پر واشنگٹن کے مفادات اور خواہشات کی تکمیل کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے متحدہ عرب امارات کو بھی کئی بار مخلصانہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اس جنگ میں غیر جانب داری برقرار رکھے اور یمن کے تنازع کا حصہ نہ بنے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کے فتح کے دعوے خیالی تصورات سے آگے نکل چکے ہیں، میجر جنرل محسن رضائی
انصار اللہ کے رہنما نے خبردار کیا کہ غاصب صہیونی حکومت مسلسل عرب حکومتوں کو یمن کے خلاف متحد کرنے کی مذموم کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے سعودی رجیم کے اس جھوٹے دعوے کی سختی سے تردید کی کہ یمن کی مسلح افواج اسلامی مقدسات کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعاء ان مقدس مقامات کے تحفظ پر پختہ یقین رکھتا ہے اور انہیں نشانہ بنانے میں یمن کا کوئی مفاد نہیں، یہ محض عوام کو گمراہ کرنے کا ایک حربہ ہے۔
مذاکرات اور ثالثی کی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد البخیتی نے کہا کہ عمان کی ثالثی کے علاوہ یمن کے حوالے سے کی جانے والی دیگر تمام حالیہ کوششیں مخلصانہ نہیں ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ سعودی رجیم کا جنگ جاری رکھنے پر اصرار کسی صورت قابل قبول نہیں ہے اور درحقیقت ریاض ہی یمن میں مذاکرات اور امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔







