شہید نصراللہ کا قائم کردہ مزاحمتی ڈھانچہ ناقابلِ تسخیر بن چکا ہے، مشیر رہبر معظم
ڈاکٹر محمد مخبر
شیعیت نیوز : رہبرِ انقلابِ اسلامی کے مشیر ڈاکٹر محمد مخبر نے لبنان کی معروف نیوز ویب سائٹ ‘العہد نیوز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سید الشہداءِ مقاومت شہید سید حسن نصراللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین کی دوسری برسی کے موقع پر کہا ہے کہ آج سید حسن نصراللہ کی شہادت کو دو سال گزرنے کے بعد اس عظیم مجاہد کی شخصیت کے مختلف پہلو اور مزاحمت کے اقتدار میں ان کا تاریخی کردار پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہو کر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید نصراللہ جہاد اور مزاحمت کی وہ عظیم علامت تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی لبنانی قوم کے دفاع، مظلوم فلسطینیوں کی حمایت اور غاصب صیہونیوں کے قبضے اور جارحیت کے مقابلے میں صرف کر دی۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی استکبار امریکہ کو ایران کی دو ٹوک شرائط، وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قطری ثالثوں سے اہم ملاقات
رہبرِ انقلابِ اسلامی کے مشیر نے واضح کیا کہ دشمن اس استکباری خام خیالی میں مبتلا تھا کہ سید حسن نصراللہ اور حزب اللہ کے دیگر کمانڈروں کو شہید کرکے مزاحمت کو کمزور کیا جا سکتا ہے، لیکن گزشتہ دو برس کے حقائق نے ثابت کر دیا ہے کہ مقاومت چند افراد تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں عوام اور مجاہدین کے غیر متزلزل ایمان میں مضبوطی سے پیوست ہو چکی ہیں۔ شہید نصراللہ کی سب سے بڑی میراث مزاحمت کو ایک ایسے گہرے اور منظم ڈھانچے میں تبدیل کرنا تھا جو کمانڈروں کی شہادت سے نہیں رکتا۔
ڈاکٹر مخبر نے شہید نصراللہ اور شہید صفی الدین کی انقلابِ اسلامی اور امامین انقلاب (امام خمینیؒ اور امام خامنہ ای) سے گہری عقیدت کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے ان کی جدوجہد کا انتہائی نمایاں پہلو قرار دیا۔ انہوں نے غاصب صیہونیوں کو متنبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ جس طرح شہید حاج قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کی شہادت سے مزاحمت کا سفر نہیں رکا، اسی طرح سید مقاومت اور ان کے باوفا ساتھیوں کا پاکیزہ خون بھی اس تحریک کو القدس کی حتمی فتح تک جاری رکھے گا۔







