خلیج فارس کے جزائر پر اماراتی دعوے مسترد، ابوموسیٰ اور تنب پر ایران کی حاکمیت ناقابلِ مذاکرات ہے، اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندہ

29 ستمبر, 2026 08:10

شیعیت نیوز : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں متحدہ عرب امارات کے نمائندے کی جانب سے کیے گئے بے بنیاد اور من گھڑت دعووں کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے ناصر اسدی نے خلیج فارس کے اسٹریٹجک جزائر ابوموسی، تنب بزرگ اور تنب کوچک پر ایران کی مکمل، قطعی اور ناقابلِ تنسیخ حاکمیت پر ایک بار پھر زور دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فلسطین کی مکمل آزادی تک شہید نصراللہ سے کیا گیا عہد نبھائیں گے، شیخ غازی حنینہ کا تجدیدِ عہد

اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کے مشیر نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ یہ جزائر ہمیشہ سے ایرانی سرزمین کا اٹوٹ انگ رہے ہیں اور رہیں گے، لہٰذا ان پر ایران کی حاکمیت کسی بھی صورت ناقابلِ مذاکرات ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے ان جزائر سے متعلق کسی بھی دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔

ناصر اسدی نے استکباری ایجنڈے کے تحت تاریخی حقائق مسخ کرنے کی کوششوں کا جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ ایران اور جزیرہ نما عرب کے درمیان موجود آبی خطے کے لیے "خلیج فارس” ہی واحد درست اور تاریخی جغرافیائی نام ہے، جو تاریخ کے آغاز سے استعمال ہوتا آ رہا ہے اور اقوام متحدہ کے نظام نے بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رکھا ہے۔ ایرانی نمائندے نے تمام ممالک پر زور دیا کہ اس تاریخی نام کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہیے۔

9:02 صبح ستمبر 29, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔