ایران پر امریکی و صیہونی جارحیت میں یورپی اڈوں کا استعمال عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کا خط

27 ستمبر, 2026 14:33

شیعیت نیوز : اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر و ناظم الامور غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں نیٹو سیکرٹری جنرل کے ان بیانات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے جن میں امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت میں یورپی فوجی اڈوں کے وسیع استعمال کا اعتراف کیا گیا ہے۔ ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ استکباری قوتوں کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ نام نہاد "آپریشن ایپک فیوری” کی حمایت میں یورپی اڈوں سے متعدد پروازیں کی گئیں اور یہ تعداد اپریل کے بعد سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ غلام حسین درزی نے زور دیا کہ امریکی اور غاصب صیہونی حکومت کی جارحیت میں یورپی سرزمین اور بنیادی ڈھانچے کا استعمال، متعلقہ یورپی ریاستوں اور ان کے حکام پر جنگی جرائم کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے حوالے سے بین الاقوامی اور انفرادی فوجداری ذمہ داری عائد کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سپاہ پاسداران کی بڑی کامیابی، جدید ترین امریکی جاسوس آبدوز ‘REMUS 600’ قبضے میں لے لی

ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کے یہ استکباری اقدامات ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملہ ہیں۔ پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق امریکی فوجی کارروائیوں میں شہریوں اور غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلی پامالی ہے۔ خط کے آخر میں متنبہ کیا گیا کہ جو یورپی ممالک اپنی فضائی حدود اور فوجی تنصیبات فراہم کر کے ان حملوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں، ان کا یہ مجرمانہ طرزِ عمل اقوام متحدہ کے منشور میں درج ذمہ داریوں سے مکمل متصادم ہے۔

3:33 شام ستمبر 27, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔