امریکہ اور اسرائیل کی ایران کیخلاف جنگ نے خطے کا نقشہ بدل دیا، سعودی رجیم کے لیے سنگین خطرات، برطانوی محقق
آبنائے ہرمز
شیعیت نیوز : لندن کے چیتھم ہاؤس سے وابستہ توانائی پالیسی اور جغرافیائی سیاست کے محقق نیل کوئلیم نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کو خطے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور اس کے تباہ کن اثرات کی شدت کا قطعی اندازہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 28 فروری کو امریکہ اور غاصب اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بعد، اب خطے کی صورتحال کو پرانی حالت پر واپس لانا ممکن نہیں رہا۔
برطانوی محقق کے مطابق، موجودہ کشیدگی محض تیل کی قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں ہے بلکہ آبنائے ہرمز میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات نے ایک وسیع ساختی تبدیلی کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لبنانی وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر مایوس کن، صیہونی جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش، سید ابراہیم الموسوی کی کڑی تنقید
نیل کوئلیم نے واضح کیا کہ استکباری و صیہونی طاقتوں کی اس جنگ طلبی نے سعودی رجیم کے لیے متعدد سنگین چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ ان چیلنجز میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش، متحدہ عرب امارات کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات اور امارات کا اوپیک (OPEC) سے نکلنا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی طویل مدتی رکاوٹوں کے نتیجے میں سعودی رجیم کی آمدنی، سرمایہ کاروں کا اعتماد اور خود کو ایک مستحکم مالیاتی و تجارتی مرکز کے طور پر پیش کرنے کا خواب بری طرح متاثر ہوگا۔







