امریکہ اور غاصب اسرائیل کی ایران پر حملے کی گیدڑ بھبکیاں؛ چار ممکنہ منظرنامے اور ایران کی ہمہ جہت تیاری
شیعیت نیوز : ایرانی حالات کے تجزیہ نگار سعید شہرابی فراہانی کے مطابق امریکہ اور غاصب صیہونی ریاست کی جانب سے ایران کے خلاف موجودہ کشیدگی محض فوجی محاذ تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک جامع ہائبرڈ جنگ ہے جس میں سکیورٹی، معیشت، اطلاعات اور نفسیاتی دباؤ شامل ہیں۔ عالمی استکبار کی خطے میں فوجی سرگرمیوں، عالمی معیشت اور یوکرین و تائیوان کے حالات کے تناظر میں دشمن کے ناپاک عزائم کو سمجھنے کے لیے صورتحال کا ہمہ جہت جائزہ لینا ضروری ہے۔
تجزیے کے مطابق استکباری قوتوں کے پاس ایران کے خلاف کارروائی کے چار ممکنہ منظرنامے زیرِ غور ہو سکتے ہیں۔ پہلا آپشن کسی اہم فوجی یا تزویراتی ہدف پر محدود حملہ کر کے سیاسی کامیابی کا جھوٹا تاثر پیدا کرنا ہے۔ دوسرا منظرنامہ وسیع فوجی کارروائی کا ہے جس میں فوجی مراکز کے ساتھ توانائی اور اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے، تاہم اس احمقانہ اقدام سے خطے میں جو جوابی طوفان اٹھے گا وہ عالمی توانائی کی منڈی اور خود جارحین کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ کے مظلوموں کی حمایت؛ شہید سید حسن نصراللہ کا مؤقف انسانی
تیسرا ممکنہ راستہ بظاہر سفارتی ڈرامہ رچانا اور پسِ پردہ اقتصادی، اطلاعاتی اور نفسیاتی دباؤ بڑھانا ہے تاکہ ایران کے اندر فیصلہ سازی کے ماحول کو مشکل بنایا جا سکے۔ چوتھا منظرنامہ سائبر کارروائیوں، جھوٹی معلومات کے پھیلاؤ اور خفیہ ہتھکنڈوں کے ذریعے اچانک وار کرنے کا ہے تاکہ حیرت کا عنصر استعمال کر کے افراتفری پھیلائی جا سکے۔
تاہم ان تمام شیطانی منظرناموں کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بابصیرت قیادت، مسلح افواج اور عوام مکمل طور پر بیدار اور تیار ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران اپنے میزائلوں اور ڈرونز سے لے کر سائبر اور اقتصادی محاذ تک، دشمن کی ہر سازش کو خاک میں ملانے کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔ استکباری طاقتوں کو بخوبی علم ہے کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں انہیں ایران کی جانب سے ایسے منہ توڑ جواب کا سامنا کرنا پڑے گا جو ان کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دے گا۔







