حرمین کی حرمت کی آڑ میں سعودی رجیم کے جرائم پر پردہ ڈالنا ناقابل قبول ہے، علامہ مقصود علی ڈومکی
شیعیت نیوز : قم المقدسہ میں مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے مدرسہ امام المتقین کا دورہ کر کے اساتذہ اور طلباء سے خصوصی ملاقات کی۔ اس موقع پر مدرسہ کے مدیر مولانا مختار حسین میرجت نے مدرسہ امام المتقین علیہ السلام کی اہم تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالی۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پوری امتِ مسلمہ کے مقدس ترین مراکز ہیں اور ان کے تقدس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا، تاہم حرمین کی حرمت کو ڈھال بنا کر سعودی رجیم کے جرائم پر پردہ ڈالنا بھی ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حرمین شریفین مقدس ہیں، سعودی رجیم کی حکومت مقدس نہیں، لہٰذا حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو حرمین کی توہین قرار دینا درست نہیں اور درباری علماء دین کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مصر کا یمن میں زمینی فوج بھیجنے سے انکار، سعودی رجیم کی درخواست مسترد
انہوں نے کہا کہ سعودی رجیم میں جوا، شراب نوشی اور بدکاری کے اڈے کھول کر حرمین شریفین کے تقدس کو پامال کیا گیا، مگر ریال خور درباری مفتی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یمن کے خلاف سعودی رجیم کی جارحیت میں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہا اور فلسطین و غزہ میں انسانی المیہ جاری ہے، لیکن ان سنگین جرائم اور قتلِ عام پر امام کعبہ اور درباری علماء کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ہم حرمین شریفین کے محافظ ہیں، لیکن کسی حکومت کے ہرگز محافظ نہیں۔ انہوں نے تمام شیعہ سنی مسلمانوں اور اہلِ ایمان سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر ہو کر یمن اور فلسطین کے مظلومین کا ساتھ دیں اور ظالم سے سوال کریں، کیونکہ یہی اسلام کا اصل تقاضا اور حرمین شریفین کا حقیقی احترام ہے۔







