ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو بھاری نقصان، اخراجات 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے، پینٹاگون کی خفیہ رپورٹ بے نقاب
امریکہ
شیعیت نیوز : امریکی وزارت جنگ (پینٹاگون) کے انسپکٹر جنرل کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ نئی تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اخراجات 33 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس رپورٹ نے امریکی حکام اور صدر ٹرمپ کے ان دعووں کی قلعی کھول دی ہے جن میں کہا جاتا رہا ہے کہ امریکی تنصیبات محفوظ ہیں اور ان کے پاس اسلحے کی کوئی کمی نہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگی اخراجات اور مالی نقصانات کی تفصیلات کو چھپایا نہیں جا سکا، جن کی تقسیم کچھ یوں ہے:
-
گولہ بارود: 22 ارب 30 کروڑ ڈالر
-
فوجی سازوسامان کا نقصان: 3 ارب 70 کروڑ ڈالر
-
دیگر متفرق اخراجات: 7 ارب 40 کروڑ ڈالر ان اعداد و شمار میں تباہ شدہ تنصیبات کی بھاری تعمیر نو کے اخراجات شامل نہیں کیے گئے ہیں۔
جنگی سازوسامان اور طیاروں کے نقصانات: رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ کو اس جنگ میں شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ تباہ یا مکمل طور پر ناکارہ ہونے والے طیاروں کی فہرست طویل ہے، جن میں شامل ہیں:
-
چار عدد ایف 15 ای (F-15E) جنگی طیارے
-
ایک ایف 35 (F-35) اور ایک اے 10 (A-10) طیارہ
-
12 فضائی ایندھن بردار طیارے اور مزید 9 دیگر حساس طیارے
-
گزشتہ جون تک 30 سے زائد ایم کیو 9 (MQ-9) ڈرونز بھی مار گرائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : یمن کے خلاف امریکی حمایت سے محرومی، سعودی عرب شدید صدمے اور مایوسی کا شکار
پینٹاگون کی اس رپورٹ میں صریحاً کہا گیا ہے کہ اس جنگ کے باعث امریکی فوج کے گولہ بارود کے ذخائر میں شدید کمی واقع ہوئی ہے اور سپلائی چین درہم برہم ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی وزیر جنگ اور صدر ٹرمپ مسلسل دعویٰ کر رہے تھے کہ امریکہ تیزی سے ہتھیار بنا رہا ہے اور ہتھیاروں کی کوئی قلت نہیں ہے۔
اس رپورٹ میں پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر یہ سنسنی خیز انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ایران نے بحرین میں امریکی بحریہ کے مرکزی سپلائی مرکز کو اپنے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بنایا تھا۔ اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ کو اپنے 20 ہزار سے زائد فوجیوں اور سفارت کاروں کو ہنگامی بنیادوں پر منتقل کرنا پڑا، جو امریکی حکام کے ان جھوٹے دعووں کی نفی کرتا ہے کہ خطے میں ان کے اڈوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور تمام ایرانی حملوں کو روک لیا گیا تھا۔
مزید برآں، عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی محکمہ خارجہ کو 20 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ یورپی ممالک پر صدر ٹرمپ کی کڑی تنقید کے باوجود، اس جنگ کے دوران یورپ میں موجود امریکی اڈوں سے 5 ہزار سے زائد فضائی پروازیں انجام دی گئیں۔







