یمن کے خلاف امریکی حمایت سے محرومی، سعودی عرب شدید صدمے اور مایوسی کا شکار
سعودی عرب
شیعیت نیوز : امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ یمن کے مقابلے میں امریکی فوجی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد سعودی عرب اس وقت شدید صدمے اور مایوسی سے دوچار ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاض خود کو خطے کی کشیدگی کے بیچ ایک انتہائی مشکل صورتحال میں پھنسا ہوا دیکھ رہا ہے اور سعودی حکام اب دستیاب محدود راستوں کا جائزہ لینے پر مجبور ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے مزید لکھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد سعودی عرب کو بدترین ممکنہ صورتحال کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران یمنی فورسز نے کئی مرتبہ سعودی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور تیل برآمد کرنے کی سعودی صلاحیت کو محدود کرنے کی کھلی دھمکی دی ہے۔ اس حوالے سے سعودی عرب میں امریکہ کے سابق سفیر مائیکل ریٹنی کا کہنا ہے کہ یمنی فورسز کے خلاف کارروائی میں ٹرمپ کی عدم دلچسپی پر سعودی حکام واقعی مایوس اور ناامید ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : القسام بریگیڈز کے اہم کمانڈر احمد البطش شمالی غزہ میں شہید
دوسری جانب یمن کے نائب وزیر اطلاعات محمد منصور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی صدر ٹرمپ، پاکستان کے وزیراعظم اور مصر سے مدد مانگنے کی کوششیں، نیز سینٹ کام کے کمانڈر سے ملاقات، یمنی فورسز کی عظیم کامیابی اور ریاض کے بحران کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمن کی یہ تزویراتی کامیابی فوجی و سیاسی سطح پر انتہائی اہم ہے، جس نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو دسیوں ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔
محمد منصور نے مزید کہا کہ یمن کی ان کامیابیوں پر غاصب صہیونی حکومت کے سیاسی اور ابلاغی حلقے بھی شدید صدمے میں ہیں۔ یمن میں مداخلت کے لیے بن سلمان کی درخواست کو ٹرمپ کی جانب سے مسترد کیا جانا ریاض کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی نے بھی سعودی عرب کی خواہش کے مطابق مؤقف اختیار نہیں کیا، جبکہ مصر کی فوج بھی خود کو یمن کی اس دلدل میں الجھانے کے لیے تیار نہیں۔







