صلالہ میں ایران اور خلیجی ممالک کا اجلاس: معروف عرب تجزیہ کار نے کامیابی کی 6 اہم وجوہات بتا دیں

13 ستمبر, 2026 18:31

شیعیت نیوز : معروف عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے عمان کے شہر صلالہ میں ایران اور خلیج فارس تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کو ایک اہم اصلاحی قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے حالیہ مضمون میں اس اجلاس کی کامیابی کے قوی امکانات کی 6 نمایاں وجوہات بیان کی ہیں:

  • امریکی مداخلت کا خاتمہ: یہ طویل عرصے بعد ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان پہلا براہ راست اجلاس ہے، جس میں امریکہ کی دھمکیاں اور مداخلت شامل نہیں ہے۔

  • امریکی اہداف کی ناکامی: امریکہ ایران میں نظام کی تبدیلی اور جوہری پروگرام تباہ کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، جبکہ ایران دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے۔

  • خلیجی ممالک کا معاشی نقصان: چھ ماہ سے جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خلیجی ممالک تیل اور گیس کی برآمدات سے محروم ہو کر سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں۔

  • غیر جانبدار ثالثی کا فقدان (ماضی میں): اس سے قبل بعض ثالث امریکی صدر ٹرمپ کے خوف سے غیر جانبدار رہنے کے بجائے محض امریکی دباؤ ایران تک پہنچانے کا کام کر رہے تھے۔

  • عمان کا متوازن کردار: عمان کی غیر جانبدارانہ علاقائی حیثیت اور تمام فریقوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی بدولت یہ عرب و ایران مذاکرات ایک ‘خاندانی مشاورت’ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

  • امریکی و اسرائیلی تحفظ کا سراب: خلیجی ممالک پر یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ان کا دفاع نہیں کر سکتے، بلکہ خطے میں امریکی فوجی اڈے ان کے لیے محض مالی بوجھ اور بلیک میلنگ کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کے شہروں ابہا اور خمیس مشیط میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، فضائی اڈے پر یمنی فورسز کا میزائل حملہ

عبدالباری عطوان نے اجلاس کے انعقاد میں عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کی سفارتی کوششوں اور دانش مندی کو بھرپور سراہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اجلاس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق ہو سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ فائدہ خطے کے ممالک کو ہوگا۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مستقبل میں مصر اور اردن بھی اس مفاہمتی عمل کا حصہ بنیں گے اور یمن جنگ کا خاتمہ اس ایجنڈے میں سرفہرست رہے گا۔

7:32 شام ستمبر 13, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔