شام میں داعشی تکفیری جولانی کے خلاف شدید احتجاج، بشار الاسد کی تصاویر اٹھا لی گئیں
داعشی تکفیری جولانی
شیعیت نیوز : شام بھر میں داعشی تکفیری دہشتگرد جولانی اور اس کی نام نہاد عبوری حکومت کے خلاف عوامی غیض و غضب عروج پر پہنچ گیا ہے۔ شام میں قحط، بدامنی، ہوشربا مہنگائی اور ایغور، چیچن اور ازبک جیسے غیر ملکی مسلح گروہوں کے تسلط کے خلاف ادلب، درعا، حلب اور دمشق سمیت کئی شہروں میں شدید احتجاج اور پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، شامی کارکنوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جولانی کے مجسمے کو گرائے جانے کی تصاویر گردش کر رہی ہیں، جو اس کے اقتدار کے خاتمے کے حتمی مطالبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مظاہرین نے سابق صدر بشار الاسد کی تصاویر بھی ہاتھوں میں اٹھا رکھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مستونگ اور پشین میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، کالعدم سپاہ صحابہ کے کمانڈر سمیت 9 دہشت گرد ہلاک
عوام کا الزام ہے کہ جولانی نے ملکی وسائل ترکی کو بیچ کر عیاشی کا راستہ اپنایا ہوا ہے، جس کا واضح ثبوت اس کے ہاتھ میں موجود 27 ہزار ڈالر مالیت کی مہنگی گھڑی ہے۔ جولانی سرکار میں غیر ملکی مسلح گروہوں کو بے لگام اختیارات دیے گئے ہیں، جو شامی عوام پر وحشیانہ ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں۔
گزشتہ پانچ دن سے جاری ان مظاہروں کو روکنے کے لیے جب غیر ملکی شدت پسندوں نے تشدد کا راستہ اپنایا تو عوام مزید مشتعل ہو گئے۔ حلب کے راستے کو ہزاروں ٹائر جلا کر مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا ہے۔ عوام سڑکوں پر "عوام بھوکی ہے”، "جولانی عبوری حکومت کو جانا چاہیے” اور "عوام جولانی کو گرانا چاہتی ہے” جیسے نعرے لگا رہے ہیں، اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان غیر ملکیوں کو شام سے فی الفور نکالا جائے۔







