آئی اے ای اے کے دعوے بے بنیاد، لامرد پر امریکی حملہ صریح جنگی جرم ہے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
بقائی
شیعیت نیوز : ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی کے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران نے اپنی حفاظتی ذمہ داریوں کے تحت ایجنسی کو تمام ضروری معلومات فراہم کر دی ہیں۔ تہران میں ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماؤنٹ کلنگ (نطنز) کے حوالے سے الزامات محض امریکی میڈیا کی قیاس آرائیاں اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں، اور آئی اے ای اے کے دعوے بے مقصد شور کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کانفرنس کے لیے ایرانی وفد کو ویزا نہ دینے پر آسٹریا کی بھی شدید مذمت کی۔
28 فروری 2026 کو فارس صوبے کے شہر لامرد پر امریکی حملے کو صریح جنگی جرم قرار دیتے ہوئے اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا کہ امریکی فوج نے 30 ہزار آبادی والے اس شہر پر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے محض 35 سیکنڈ میں 2 ہزار کلوگرام دھماکہ خیز مواد گرایا۔ 500 کلوگرام وزنی 4 میزائل رہائشی علاقوں، اسٹیڈیم، بلڈ ٹرانسفیوژن سینٹر اور اسکولوں کے قریب گرائے گئے، جن میں ایک لاکھ 80 ہزار چھرے استعمال کیے گئے۔ اس ممنوعہ اور وحشیانہ کارروائی کے نتیجے میں ایک افغان شہری سمیت 21 بے گناہ افراد جاں بحق اور متعدد عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔ مزید برآں، ہینگام جزیرے کے قریب ایک ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملے میں 2 پاکستانیوں سمیت متعدد افراد زخمی اور ایک شخص جاں بحق ہوا۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ میں اسرائیلی مظالم عالمی یومِ جمہوریت منانے والوں کے منہ پر طمانچہ ہیں، علامہ ساجد نقوی
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان محفوظ بحری راستوں کے قیام پر مفاہمت طے پا گئی ہے جس میں دونوں ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی پالیسی بیرونی طاقتیں مسلط نہیں کر سکتیں۔ یمن میں مداخلت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یمنی عوام اپنے فیصلے کرنے میں مکمل آزاد ہیں۔
اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ایران اور خلیج فارس کے ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ایک مجوزہ اجلاس سعودی عرب کی درخواست پر ملتوی کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی صرف اور صرف غاصب صہیونی حکومت کے مفاد میں ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کو تنہا کرنے کی کوششوں پر انہوں نے کہا کہ اپنے دفاع کے لیے کھڑے ہونے والے اور اقوام کی حمایت یافتہ ملک کو تنہا نہیں کیا جا سکتا، جبکہ امریکہ نے اقوام متحدہ اور آئی اے ای اے کو اپنے مقاصد کے لیے سیاسی آلے میں تبدیل کر دیا ہے۔







