امریکہ، سعودی عرب اور ترکی کا گٹھ جوڑ: ہزاروں شامی جنگجوؤں کو یمن جنگ میں جھونکنے کا خفیہ معاہدہ بے نقاب

14 ستمبر, 2026 16:04

شیعیت نیوز : ایک باخبر شامی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ، سعودی عرب اور ترکی کی سرپرستی میں ہزاروں شامی مسلح جنگجوؤں کو یمن کی جنگ کا ایندھن بنانے کے لیے ایک خفیہ سکیورٹی اجلاس میں خطرناک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

عراقی نیوز ایجنسی ‘المعلومہ’ کی رپورٹ کے مطابق، اس خفیہ اجلاس میں امریکی سکیورٹی حکام، امریکی صدر کے نمائندے ٹام بارک، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیداروں سمیت شامی مسلح گروہوں کی جانب سے ان کی نام نہاد فوج کے سربراہ علی النعسان، وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور ابوبکر حمصی نامی شخص نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں : آیت اللہ حائری شیرازی کی آخری نصیحت: یمن کو نظر انداز نہ کرو

ذرائع کے مطابق اس مذموم منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 3500 شامی مسلح افراد کو یمن منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 1200 جنگجوؤں کو روانہ کیا جائے گا، جبکہ بقیہ افراد دو مزید مرحلوں میں بھیجے جائیں گے۔ اس ترسیل کا طریقہ کار یہ طے پایا ہے کہ ان افراد کو شام کے ہوائی اڈوں سے پہلے ترکی کے دارالحکومت انقرہ منتقل کیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں ‘سیاحوں’ کے روپ میں ترکی سے سعودی عرب بھیجا جائے گا، جہاں سعودی حکام انہیں مکمل طور پر جدید ہتھیاروں اور جنگی سازوسامان سے لیس کریں گے۔

ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ یمن کے محاذوں پر بھیجنے سے قبل ان شامی مسلح افراد کو سعودی عرب کے اندر ترکی اور آذربائیجان کے فوجی افسران کے زیرِ نگرانی خصوصی عسکری تربیت فراہم کی جائے گی۔ تربیت کی تکمیل کے بعد ان کرائے کے جنگجوؤں کو یمنی عوام اور مزاحمتی فورسز کے خلاف لڑنے کے لیے محاذ پر اتار دیا جائے گا۔

6:01 شام ستمبر 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔