سعودی حمایت یافتہ فورسز میں وسیع کرپشن کا انکشاف، 80 فیصد اہلکار صرف کاغذوں تک محدود
شیعیت نیوز : امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک مغربی ذریعے کے حوالے سے اپنی چشم کشا رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز کی فہرستیں فرضی ناموں سے بھری ہوئی تھیں۔ ان فرضی اہلکاروں کے نام پر باقاعدگی سے ماہانہ تنخواہیں وصول کی جا رہی تھیں، جبکہ عملی طور پر میدانِ جنگ میں صرف 20 فیصد اہلکار ہی موجود تھے۔ یہ سنگین صورتحال دراصل سعودی حمایت یافتہ عناصر میں کئی سالوں سے جاری بدترین انتظامی بدعنوانی اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔
جنوبی یمن کی عبوری کونسل کے ایک اہم عہدیدار عمرو البیض نے اس حوالے سے اعتراف کیا ہے کہ سعودی اتحاد کے پاس کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں تھی اور انہیں شدید بدانتظامی کا سامنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز کے راستوں پر ایران اور عمان کا حتمی معاہدہ، امریکی شرائط پوری ہونے تک آبنائے بند رہے گی
دوسری جانب امریکی حکومت کے سابق مشیر محمد الباشا کا کہنا ہے کہ انصار اللہ کے مخالف دھڑوں کے سرکردہ افراد کے درمیان پائے جانے والے شدید اندرونی اختلافات نے ان کی دفاعی لائنوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سعودی عرب کی سربراہی میں قائم انصار اللہ مخالف اتحاد میں نہ تو کوئی سیاسی ہم آہنگی موجود ہے اور نہ ہی ان کی کوئی متحدہ فوجی کمان ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، سعودی اتحاد کی اسی کمزوری، باہمی اختلافات اور بدانتظامی کے باعث گذشتہ روز یمنی مسلح افواج اور انصار اللہ کے دستوں نے بحیرہ احمر کے انتہائی اہم داخلی راستے پر واقع جزیرہ بریم (میون) کی جانب کامیاب پیش قدمی کی۔ اس تاریخی پیش قدمی کے نتیجے میں عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب کا کنٹرول عملاً انصار اللہ کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔







