ایران کی کامیاب جنگی حکمت عملی، امریکی فوجی غرور اور فوری فتح کا خواب چکنا چور

04 ستمبر, 2026 08:39

شیعیت نیوز : ایک معروف لبنانی عسکری تجزیہ کار اور بریگیڈیئر جنرل اکرم سریوی نے خطے کی حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایران کی جنگی حکمت عملی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ یمن کے المسیّرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکا کے فوجی غرور اور فوری فتح کے غلط اندازے کو مکمل طور پر شکست دے دی ہے۔ ان کے مطابق، امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر کے خود کو ایک ایسی طویل جنگ میں دھکیل دیا ہے جو اس کے وسائل اور گولہ بارود کو تیزی سے ختم کر رہی ہے اور اس کے فوجی و مالی نقصانات میں مسلسل اضافہ کر سکتی ہے۔

لبنانی تجزیہ کار نے انکشاف کیا کہ امریکی حکومت اور فوجی اداروں کے اندر جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور اعلیٰ کمانڈروں نے حکومت کو جنگ کی مشکلات سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا فضائی دفاعی نظام اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے کیونکہ ایران نے کویت، عراق، بحرین، متحدہ عرب امارات اور اردن میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا کر جنگ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ گولہ بارود کے کم ہوتے ذخائر نے واشنگٹن کی اپنے فوجیوں کے تحفظ کی صلاحیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : شادی کی تقریب پر امریکی حملہ دہشت گردی ہے، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، میجر جنرل احمد وحیدی

بریگیڈیئر جنرل اکرم سریوی نے جدید جنگی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کا نتیجہ صرف جدید ہتھیاروں سے نہیں بلکہ مزاحمت اور طویل جنگ کو منظم کرنے کی صلاحیت سے طے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی حکمت عملی دشمن کو براہ راست فضائی یا بحری جنگ کے بجائے فرسایشی (تھکا دینے والے) مرحلے میں لے جانے پر مبنی ہے۔ ایران میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی تعداد کا استعمال کر کے امریکی فضائی دفاعی نظام کو مسلسل مصروف اور دباؤ میں رکھ کر اس کی دفاعی صلاحیتوں کو بتدریج کمزور کر رہا ہے۔

تجزیہ کار کے مطابق، اس جنگ میں امریکا کی سب سے بڑی غلطی اس کا فوجی غرور اور جنگ کے دورانیے کا غلط اندازہ تھا۔ واشنگٹن نے ایران کے خلاف وینزویلا جیسے منظرنامے کی توقع کرتے ہوئے سوچا تھا کہ جنگ مختصر ہوگی اور وہ جلد فتح حاصل کر لے گا، لیکن صورتحال اس کے بالکل برعکس نکلی۔ موجودہ حقائق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران کے خلاف اس طویل اور تھکا دینے والی جنگ کے نتائج امریکا کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

9:43 صبح ستمبر 4, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔