انڈین مسلمز فار سول رائٹس (IMCR) کی جانب سے 51 رکنی نیشنل مانیٹرنگ کمیٹی کا قیام
انڈین مسلمز فار سول رائٹس
شیعیت نیوز : نئی دہلی میں انڈین مسلمز فار سول رائٹس (IMCR) کے مرکزی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران 51 رکنی نیشنل مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد ملک میں مسلمانوں سمیت دیگر تمام شہریوں کے آئینی و جمہوری حقوق کے حوالے سے پیش رفت پر مسلسل نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر قانونی، سیاسی اور آئینی سطح پر مداخلت کرنا ہے۔ اس پریس کانفرنس سے سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب، جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سادات اللہ حسینی اور دیگر اہم شخصیات نے خطاب کیا۔
سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید اور جماعت اسلامی ہند کے صدر سادات اللہ حسینی نے واضح کیا کہ یہ اقدام محض مسلمانوں کے مطالبات تک محدود نہیں بلکہ ہر ہندوستانی شہری کو اس کے آئینی حقوق کی یاد دہانی کرانے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی ایک مشترکہ کوشش ہے۔ انہوں نے ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر طبقات سے اپیل کی کہ وہ ملک کی شناخت اور مشترکہ اقدار کے تحفظ کے لیے اس تحریک کا حصہ بنیں، کیونکہ ایک طبقے کی سلامتی کا تعلق دوسرے تمام شہریوں کی سلامتی سے وابستہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سیریک میں شادی کی تقریب پر امریکی حملہ، انسانی حقوق کے نام نہاد دعویداروں کا مکروہ چہرہ بے نقاب
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے قومی سکریٹری ندیم خان اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ایس کیو آر الیاس نے ملک میں بڑھتے ہوئے نفرت انگیز جرائم، ہجومی تشدد، بے دخلی، بلڈوزر کارروائیوں اور سخت قوانین کے مبینہ غلط استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا دائرہ اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ کوئی ایک تنظیم تنہا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی، جس کے لیے کمیٹی کے تحت جرائم اور ناانصافیوں کے خلاف مداخلت کو ترجیح دی گئی ہے اور رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے بحران زدہ علاقوں کے دورے بھی کیے جا رہے ہیں۔
سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے بتایا کہ ملک کی موجودہ صورتحال اور اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے تقریباً 100 ممتاز شخصیات کے دستخطوں سے صدرِ جمہوریہ اور سیاسی جماعتوں کو خطوط ارسال کیے گئے، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس صورتحال کے پیش نظر اکتوبر میں 1000 افراد پر مشتمل ایک بڑا قومی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، اور تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اقلیتوں کو محض ووٹ بینک سمجھنے کے بجائے ان کے مساوی آئینی حقوق پر اپنا واضح مؤقف عوام کے سامنے پیش کریں۔







