سیریک میں شادی کی تقریب پر امریکی حملہ، انسانی حقوق کے نام نہاد دعویداروں کا مکروہ چہرہ بے نقاب

03 ستمبر, 2026 07:33

شیعیت نیوز : انسانی حقوق کا دعویٰ کرنے والے امریکہ کی جانب سے سیریک میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنانا اور متعدد بے دفاع شہریوں کو شہید و زخمی کرنے کے واقعے نے خطے میں استکباری طاقتوں کے انسانیت دشمن چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ مکران کے ساحلی علاقے میں پیش آنے والے اس سانحے نے عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی کے سائے میں دو خاندانوں کی خوشی کو گہرے سوگ میں بدل دیا ہے اور ایرانی قوم کی سلامتی کے دشمنوں کی جارحانہ فطرت کو آشکار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی قوم اپنے جذبۂ شہادت کے باعث امریکہ کے مقابلے میں سرخرو اور کامیاب ہے، ایرانی اہلسنت عالم دین مولوی عارفی

اس ہولناک امریکی حملے کا نشانہ کوئی فوجی مرکز نہیں تھا، بلکہ ایک خاندان کا پُرامن ماحول اور معاشرتی زندگی کا تقدس تھا۔ ایک ایسے وقت میں جب لوگ اپنی قدیم روایات کے مطابق خوشیاں منانے کے لیے جمع تھے، تقریب کو میزائل حملے کے ذریعے خون میں نہلا دیا گیا۔ وہ معصوم بچے جو موسیقی اور قہقہوں کی توقع کر رہے تھے، دھماکوں کی ہولناک آواز اور ماؤں کی آہ و بکا سننے پر مجبور ہوئے۔ یہ محض ایک مقامی سانحہ نہیں بلکہ بیرونی مداخلت کے مقابل آزادی کی قیمت چکانے والوں کے خلاف منظم ناانصافی ہے۔

اس سفاکانہ واقعے پر عالمی برادری کی خاموشی استکباری طاقتوں کے دوہرے معیار کی واضح تصدیق کرتی ہے۔ تاہم، ایسے جرائم ہرمزگان کے عوام کے عزم کو کمزور کرنے کے بجائے دشمن کی سازشوں کے خلاف ان کے اتحاد اور بیداری کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ اب میڈیا، دینی اور ثقافتی اداروں کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جرم کے مختلف پہلوؤں کو عالمی رائے عامہ کے سامنے اجاگر کریں، تاکہ سیریک کے مظلوموں کی فریاد دشمن کے بے بنیاد پروپیگنڈے میں کبھی دب نہ جائے۔

8:17 صبح ستمبر 3, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔