معروف عالم دین، محقق اور استاد مولانا محمد سیادت نقوی انتقال کر گئے

31 اگست, 2026 17:02

شیعیت نیوز : معروف عالم دین، محقق اور استاد مولانا محمد سیادت نقوی کے انتقال کی خبر نے اہلِ علم، طلبہ، وابستگانِ دارالعلوم اور اردو و دینی ادب سے محبت رکھنے والوں کو شدید سوگوار کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی تعلیم، تدریس، تحقیق، تصنیف اور دینی خدمات کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ۶ نومبر ۱۹۴۲ء کو محلہ شفاعت پوتہ، امروہہ میں پیدا ہونے والے مولانا نقوی نے دارالعلوم سید المدارس سے عالم و فاضل کے امتحانات پاس کیے، جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے اردو اور روہیلکھنڈ یونیورسٹی سے "علی نظر حیات و شاعری” کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

علمی میدان میں وسعتِ فکری کے حامل مولانا نقوی محض ایک عالمِ دین نہیں تھے، بلکہ اردو زبان و ادب، فلسفہ اور اسلامی فکر پر گہری نظر رکھنے والے استاد اور صاحبِ قلم تھے۔ وہ ۱۹۶۴ء میں امام المدارس کالج میں استاد مقرر ہوئے اور ۱۹۷۳ء میں جگدیش سرن ہندو ڈگری کالج میں اردو کے پروفیسر بنے، جہاں ۱۹۸۷ء سے ۲۰۰۳ء تک بطور صدر شعبۂ اردو تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کی انتظامی اور دینی صلاحیتوں کے پیش نظر انہیں ۱۹۸۹ء میں اشرف المساجد کا امام جمعہ اور دارالعلوم سید المدارس کا متولی بھی منتخب کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : فرقہ واریت اور نفرتیں پھیلانے والوں سے ہوشیار رہنا ہوگا، علامہ عارف حسین واحدی

مولانا محمد سیادت نقوی کی علمی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی بیش قیمت تصانیف تھیں، جن میں ‘اسلامی نظریۂ عدالت نہج البلاغہ کی روشنی میں’، ‘نسیم امروہوی: ایک تعارف’، ‘گفتۂ غالب’، ‘اسلام، اشتراکیت اور سرمایہ داری’، ‘نظامِ ملکیت کا تصور’، ‘اسالیبِ دعا: آیاتِ قرآنی کے تناظر میں’ اور ‘فرہنگِ مراثیِ دبیر’ نمایاں ہیں۔ ان کا مطالعہ اسلامی فکر سے لے کر اردو ادب اور مرثیہ نگاری تک محیط تھا۔ کتابوں کے علاوہ ان کی طویل علمی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ان کے وہ بے شمار شاگرد ہیں جن کی انہوں نے تعلیم و تربیت کی۔

ان کی رحلت اہلِ علم کے لیے ایک عظیم نقصان، ان کے شاگردوں کے لیے ناقابلِ تلافی خلا اور اہلِ خانہ کے لیے گہرا صدمہ ہے۔ اس غم کی گھڑی میں ان کے فرزندان مولانا سید احسن اختر سروش، سید حسین اور تمام اہلِ خانہ، رفقائے علمی اور وابستگان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول عطا کرے اور پسماندگان کو صبر و اجر عطا فرمائے (إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)۔

5:42 شام اگست 31, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔