ایران اور افغانستان کے مابین اسٹریٹجک تعلقات؛ سکیورٹی، معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے تعاون ناگزیر

29 اگست, 2026 14:02

ایران اور افغانستان کے درمیان 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد محض ایک جغرافیائی لکیر نہیں، بلکہ دونوں ممالک کے علاقائی استحکام اور سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں کابل اور تہران کے درمیان اہم شعبوں میں باہمی تعاون خطے کے مستقبل کا تعین کرے گا:

  • سرحدی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی: داعش خراسان جیسے دہشت گرد گروہوں کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ سرحدی نگرانی کا نظام قائم کرنا ناگزیر ہے۔ ایک جانب کی بدامنی تیزی سے دوسری جانب پھیل سکتی ہے۔

  • چابہار بندرگاہ اور اقتصادی روابط: چاروں طرف سے خشکی میں گھرے افغانستان کے لیے ایران کی چابہار بندرگاہ عالمی اور بالخصوص بھارتی منڈیوں تک رسائی کا سستا اور اہم ترین تجارتی راستہ ہے۔ ایران کی جانب سے کسٹمز اور تجارتی پالیسیوں میں نرمی افغان معیشت کو مضبوط کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سیرت النبیؐ کی روشنی میں نسل نو کی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے، علامہ عارف واحدی

  • دریائے ہلمند اور آبی وسائل کا انتظام: دریائے ہلمند کے پانی کی تقسیم کا دیرینہ تنازع محض تکنیکی نہیں بلکہ معاشی اور سکیورٹی مسئلہ ہے۔ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے، باقاعدہ قانونی مذاکرات اور موجودہ معاہدوں کے احترام سے ماحولیاتی اور زرعی بحران سے بچا جا سکتا ہے۔

  • لاکھوں افغان مہاجرین کا مستقبل: ایران میں مقیم لاکھوں افغان شہریوں کی اچانک اور غیر منظم ملک بدری افغانستان کے کمزور شہری اور معاشی ڈھانچے پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ اس کے برعکس مہاجرین کو قانونی دائرے میں لا کر ورک پرمٹ جاری کرنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

  • کابل کی سفارتی حیثیت کی بحالی: خطے کی ایک بڑی طاقت کے طور پر، ایران شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور دیگر کثیرالجہتی فورمز پر افغانستان کی شمولیت کی راہ ہموار کر کے کابل کی سفارتی تنہائی ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

3:23 شام اگست 29, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔