مفتی جعفر حسین نے شدت پسندی کی نفی اور آئین کی بالادستی پر زور دیا، علامہ ساجد علی نقوی
شیعیت نیوز : قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین کی 43ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مرحوم تعلیمات اسلامیہ بورڈ کے رکن اور 22 نکات مرتب کرنے والے 31 علماء میں شامل تھے۔ انہوں نے عوام کے حقوق کے لیے بے مثال جدوجہد کی اور نظریاتی کونسل سے اختلافات کے باعث استعفیٰ دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ علامہ مفتی جعفر حسین نے ہمیشہ اعتدال اور اتحاد کو مدنظر رکھتے ہوئے شدت پسندی کی نفی کی۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں وہ قائد اول علامہ سید محمد دہلوی کی ملی جدوجہد کے ہمرکاب رہے اور سیاسی عدم استحکام پر متفکر رہتے ہوئے آخری ایام میں ایم آر ڈی میں بھی شمولیت اختیار کی۔
یہ بھی پڑھیں : مفتی جعفر حسین نے ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے بھرپور جدوجہد کی، علامہ شبیر میثمی
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ مفتی جعفر حسین ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے حامی تھے اور انتباہ کرتے تھے کہ اس کے بغیر ملک شرپسندوں کے ہاتھوں تباہ ہو جائے گا۔ دورِ آمریت میں ان کی سربراہی میں ہونے والے تاریخی احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کے حکمرانوں کو ہر شہری کے یکساں حقوق کے احترام کی یقین دہانی کرانا پڑی تھی۔
اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ علامہ مفتی جعفر حسین ایک نابغہ روزگار اور ہمہ جہت شخصیت تھے۔ انہوں نے علمی و عملی میدانوں، خاص طور پر تصنیف، ترجمہ اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ ملی جدوجہد میں بھی اعلیٰ مقام پایا اور ان کے چھوڑے گئے صاف ستھری سیاست کے نقوش آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔







