امریکی فوج میں کئی ماہ سے عسکری صلاحیت متاثر
پینٹاگون
شیعیت نیوز : امریکی فوج میں اعلیٰ سطح پر جاری بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی تازہ رپورٹ کے مطابق، ہیگسیت نے کم از کم تین ایسے اعلیٰ اور تجربہ کار امریکی فوجی افسران کو برطرف کر دیا ہے جنہیں سابق آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اپریل میں جنرل رینڈی جارج کی برطرفی کے بعد سے امریکی فوج تاحال کسی مستقل آرمی چیف سے محروم ہے۔ اس انتظامی خلا کے دوران چار ستارہ جنرلوں کی تعداد بھی 10 سے کم ہو کر محض 5 رہ گئی ہے، جبکہ امریکی وزیرِ فوج ڈینیئل پی ڈرسکول کے بھی جلد عہدہ چھوڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے، خلیج فارس میں کوئی دشمن جنگی جہاز نہیں، جنرل حسین محبی
اعلیٰ فوجی قیادت میں یہ کھینچ تان اور متنازع تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکی فوج مغربی ایشیا میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے دباؤ کا شکار ہے اور یوکرائن جنگ میں بھی مصروف ہے۔ ان حالات اور پیٹریاٹ میزائلوں کے محدود ذخائر نے امریکی فوج کی مؤثر کمان کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ناقدین کے مطابق ہیگسیت اور اعلیٰ کمانڈروں کے درمیان جاری ان سنگین اختلافات نے اہم تزویراتی فیصلوں کو شدید مشکل بنا دیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اندرونی بحران اور انتظامی خلا مستقبل میں ایران، روس اور چین کے جدید ڈرونز اور میزائلوں جیسے بڑے خطرات کا مقابلہ کرنے کی امریکی صلاحیت کو بُری طرح متاثر کر سکتا ہے۔







