ایران کے خلاف مہم میں جنوبی کوریا کا ساتھ دینے سے انکار
دہشت گرد ٹرمپ
شیعیت نیوز : ایران کے خلاف اپنی مہنگی اور ناکام جارحیت کے باعث شدید مشکلات کا شکار دہشت گرد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب کسی اور ملک کے ساتھ محاذ آرائی کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ اپنی اسی خفت کو مٹانے اور عالمی توجہ ہٹانے کے لیے دہشت گرد ٹرمپ نے اب شمالی کوریا کے ساتھ بظاہر دوستانہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک پیغام میں دہشت گرد امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اس کے تعلقات انتہائی شاندار ہیں۔ اس نے جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشقیں نہ صرف انتہائی مہنگی ہیں، بلکہ ایک ایسے ملک (شمالی کوریا) کو جارحانہ پیغام دیتی ہیں جس کا رویہ ہمیشہ احترام پر مبنی رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی صدر سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر داخلہ کی تعمیری ملاقات، اہم پیش رفت
دہشت گرد ٹرمپ نے مزید کہا کہ چونکہ اب ان فوجی مشقوں کو منسوخ کرنے میں بہت دیر ہو چکی تھی، اس لیے اس نے اپنے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کو ہدایت دی ہے کہ ان کی سطح اور دائرہ کار میں نمایاں کمی کی جائے۔ اس موقع پر اس نے ان مشقوں کے بیشتر اخراجات کا بوجھ ہمیشہ کی طرح امریکہ پر پڑنے کا بھی رونا رویا۔
تاہم، دہشت گرد ٹرمپ نے جنوبی کوریا سے اپنی اس ناراضگی اور شمالی کوریا کی جانب جھکاؤ کی اصل وجہ بیان کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی مہم میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ جس پر جنوبی کوریائی صدر نے دو ٹوک الفاظ میں امریکی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے جواب دیا: "نہیں، شکریہ!”







