انصاراللہ خودمختار قوت ہے، نیویارک ٹائمز کا اعتراف

22 اگست, 2026 14:14

شیعیت نیوز : امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ یمن کی تحریک انصاراللہ کو محض ایران کی ایک اتحادی قوت یا نمائندہ گروہ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ اس کی صلاحیتیں اور بحیرہ احمر میں اس کی اسٹریٹجک پوزیشن اسے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک اہم کردار بنا چکی ہے۔ اخبار کے مطابق چند سال پہلے تک انصاراللہ کو مزاحمتی محاذ میں ایک ثانوی قوت سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ ایک ایسی قوت بن چکی ہے جسے عالمی تنازعات میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: مسجد الاقصیٰ اور اپنی سرزمین کا دفاع کریں، ابو عبیدہ کی فلسطینیوں سے اپیل

نیویارک ٹائمز نے انصاراللہ کی سب سے اہم صلاحیتوں میں یمن کے جغرافیائی اور بحری محل وقوع کو قرار دیا ہے، جسے وہ باب المندب اور بحیرہ احمر میں اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انصاراللہ کے اپنے مخصوص مفادات ہیں اور وہ انہی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہے، جبکہ غزہ جنگ کے دوران اس نے ڈرونز، میزائلوں اور بغیر پائلٹ کشتیوں کے ذریعے اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنا کر عالمی بحری تجارت کو متاثر کیا اور باب المندب کی اہمیت کو ثابت کیا۔ اخبار نے خبردار کیا کہ انصاراللہ کو ایک غیر خودمختار گروہ سمجھنا پالیسی سازی میں غلط اندازوں کا باعث بن سکتا ہے اور اس کے ساتھ ایک مؤثر فریق کے طور پر معاملات کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ اعتراف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ یزیدی سعودی رجیم کی جارحیت اور دہشتگرد امریکی حکومت کی ایران مخالف پالیسیاں محورِ مقاومت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور خودمختاری کو روکنے میں ناکام رہی ہیں، اور انصاراللہ ایک اہم اسٹریٹجک کھلاڑی بن کر ابھری ہے۔

2:54 شام اگست 22, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔