لبنان پر مزید اسرائیلی قبضے کی کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، حزب اللہ
محمود قماطی
شیعیت نیوز : حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے نائب سربراہ محمود قماطی نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو اسے بھرپور اور کرارا جواب دیا جائے گا۔
فلسطینی خبر رساں ادارے ’سما‘ کے مطابق، ہفتے کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں محمود قماطی نے کہا کہ جنوبی لبنان کے بعض حصے تاحال اسرائیلی کنٹرول میں ہیں۔ تاہم، لبنانی حکومت ان علاقوں سے قابض افواج کے مکمل انخلا کے لیے سیاسی اور سفارتی سطح پر اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ نے فی الحال تحمل سے کام لیا ہے تاکہ مقبوضہ علاقوں کی مکمل آزادی کے لیے سیاسی عمل کو پورا موقع مل سکے۔ محمود قماطی کا کہنا تھا کہ ہر اسرائیلی جارحیت کا فوری جواب نہ دینے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مزاحمتی تحریک کمزور پڑ گئی ہے یا وہ جواب دینے سے قاصر ہے۔ حزب اللہ آج بھی پوری طرح مضبوط ہے اور اپنے دفاع کا بھرپور حق اور صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ میں ہر رات 30 سے 40 فلسطینیوں کو قتل کیا جائے، دہشتگرد اسرائیلی وزیر
محمود قماطی نے مزید تنبیہ کی کہ زمینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مزید لبنانی سرزمین ہتھیانے کی کسی بھی کوشش کا اسی مناسبت سے عملی جواب دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی صفوں میں ایرانی جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق افواہوں اور اطلاعات کو سختی سے مسترد کر دیا۔
واضح رہے کہ 2 مارچ کو اسرائیلی حکومت نے لبنان کے خلاف ایک وسیع فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا، جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا، 10 لاکھ سے زائد شہری بے گھر ہوئے اور جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر اسرائیلی فوج نے قبضہ کر لیا تھا۔
گزشتہ ماہ، واشنگٹن میں ہونے والے کئی براہِ راست مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کا بنیادی مقصد جنگ کا خاتمہ تھا۔ تاہم، اس معاہدے کو قانونی حیثیت کے حوالے سے پائے جانے والے ابہام اور اسرائیلی فوج کی واپسی کے لیے کسی واضح ٹائم لائن کی عدم موجودگی کے باعث کڑی تنقید کا سامنا ہے۔







