پاکستان میں شیعہ حقوق پامال، 79 برس سے تشدد اور عدمِ تحفظ
شیعہ
شیعیت نیوز : قیامِ پاکستان سے 14 اگست 2026ء تک شیعہ برادری کو ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ وارانہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، امام بارگاہوں اور مذہبی اجتماعات پر حملوں، سنی تکفیری و نفرت انگیز مہمات اور بعض علاقوں میں ریاستی تحفظ کی ناکامی کا سامنا رہا ہے۔ 1980ء کی دہائی کے بعد فرقہ وارانہ شدت پسندی میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ 1990ء کی دہائی میں کالعدم سپاہِ صحابہ پاکستان اور لشکرِ جھنگوی جیسی شدت پسند تنظیموں کے باعث شیعہ مخالف تشدد نے منظم صورت اختیار کی، جس میں کراچی، کوئٹہ، پاراچنار، گلگت، جھنگ اور دیگر علاقے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یزیدی سعودی رجیم کا شیعوں کے خلاف تکفیری وار، الاحساء میں وہابی گروہ کی سرگرمیاں تیز
خاص طور پر بلوچستان کی ہزارہ شیعہ برادری طویل عرصے تک ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کا نشانہ بنتی رہی، جبکہ 2026ء کا اب تک کا سب سے سنگین واقعہ 6 فروری کو اسلام آباد کی خدیجۃ الکربریٰ مسجد و امام بارگاہ پر خودکش حملہ تھا، جس میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور 169 زخمی ہوئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں شیعہ شہریوں کو آئینی طور پر مذہبی آزادی اور مساوی شہری حقوق حاصل ہیں، تاہم عملی طور پر حقِ زندگی، مذہبی آزادی، عبادت گاہوں کے تحفظ، نقل و حرکت اور مؤثر قانونی تحفظ کے حوالے سے سنگین مسائل بدستور موجود ہیں۔ 14 اگست 2026ء تک فرقہ وارانہ حملوں میں شہید ہونے والے شیعہ شہریوں کی مجموعی تعداد کا کوئی مستند، جامع اور متفقہ سرکاری ریکارڈ دستیاب نہیں، تاہم رپورٹس اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شیعہ برادری کئی دہائیوں سے تشدد اور عدمِ تحفظ کا سامنا کرتی آئی ہے۔







