منافق اردوگان کا نیا چہرہ: کل یمن میں قتل و غارت پر محاسبہ کا مطالبہ، آج خود سعودی رجیم کے ساتھ
منافق اردوگان
شیعیت نیوز : سال 2018 میں ترک صدر رجب طیب اردوگان نے ایک تقریر میں سعودی عرب کی یمن میں جاری قتل و غارت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ "سعودی عرب نے یمن کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور دسیوں ہزار شہریوں کو قتل کیا ہے، اس پر ان کا محاسبہ ہونا چاہیے۔” انہوں نے سعودی عرب سے سوال کیا تھا کہ "یمنی بحران کا سبب کون ہے؟ یمنیوں کو کس نے قتل کیا؟ آج یمن کی حالت کیا ہے؟”
لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ وہی اردوگان، جو کبھی بن سلمان اور سعودی رجیم کی یمن میں فوجی کارروائیوں کو قاتلانہ سیاست قرار دیتے تھے، آج اسی بن سلمان کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں اور ایسے اتحاد کا حصہ بن رہے ہیں جو یمن کے خلاف دوبارہ جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔ یہ منظر شیطانی سیاست کے اس تلخ اصول کو دہراتا ہے کہ جب سیاست اصولوں کے بجائے مفادات کے تابع ہو جائے تو کل کا قاتل آج کا اتحادی بن جاتا ہے اور کل کے جرم کو آج مصلحت کا نام دے دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی خیانتکار: امریکی عالمی بالادستی کا کلیدی ستون، پیٹرو ڈالر کے ذریعے مسلم امہ کو تباہی کی راہ پر گامزن
اردوگان کی یہ منافقت اس وقت عیاں ہوئی ہے جب سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدہ طے پایا، جسے یمن کے خلاف ایک نئی جارحیت کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جب غزہ کے بچے قتل ہو رہے تھے تو اردوگان خاموش تھے، مگر جب امریکی اڈوں کو خطرہ لاحق ہوا تو انہیں اتحاد یاد آیا۔ یہ منافقانہ رویہ امت مسلمہ کے لیے سبق ہے کہ کس طرح مفاد پرست رہنما اپنے اصولوں کو بیچ کر اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔







