یمن کا معاہدۂ مکہ پر سخت ردعمل، "محاصرے کے بدلے محاصرے” کی حکمت عملی جاری رہے گی

08 اگست, 2026 08:48

شیعیت نیوز : سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے معاہدۂ مکہ پر صنعا نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے سے یمن کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور "محاصرے کے بدلے محاصرہ” کی حکمت عملی اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گی۔ یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے کہا کہ معاہدوں کا اطلاق ماضی پر نہیں ہوتا اور یہ معاہدہ یمن کی موجودہ حکمت عملی پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: یمن کی سعودی رجیم کے خلاف نئی عسکری حکمت عملی، ہر فوجی نقل و حرکت کو براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا

المشاط نے پاکستان اور ترکیہ کی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ملک سعودی عرب کی جارحیت یا یمن کے محاصرے میں شریک ہوگا، اسے بھی جارح تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے سعودی حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ پوری دنیا کو بھی اپنے ساتھ ملا لیں تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ دوسری جانب انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے کہا کہ یمن اپنے خلاف بننے والے اتحادوں کی پروا کیے بغیر محاصرہ توڑنے کی کوشش جاری رکھے گا۔

یمن کی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ کوئی بھی علاقائی یا عالمی اتحاد یمنی عوام کے جائز حقوق سلب نہیں کر سکتا اور ہر وہ اسلامی اتحاد جو فلسطین کے مسئلے کو اپنی اولین ترجیح نہ بنائے، وہ امت مسلمہ کے دشمنوں کے مفادات کی خدمت کرے گا۔ وزارت نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ نئے فوجی اتحاد بنانے کے بجائے یمن کا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے اور اپنی توانائیاں فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے صرف کرے۔

یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ 7 اگست 2026 کو مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جسے "معاہدۂ مکہ” کا نام دیا گیا ہے۔

9:48 صبح اگست 8, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔