خاموشی ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے، مولانا مسرور عباس انصاری
مولانا مسرور عباس انصاری
شیعیت نیوز : سرینگر جموں وکشمیر کے سجاد آباد چھتہ بل میں حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کے اربعین کی مناسبت سے مجلسِ اربعین حسینیؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں وادیٔ کشمیر کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں عزادارانِ امام حسینؑ نے بھرپور شرکت کی۔ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا مسرور عباس انصاری نے واقعۂ کربلا کے عالمگیر پیغام پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
مولانا انصاری نے کہا کہ امام حسینؑ نے انسانیت کو ظلم و جبر کے سامنے سر نہ جھکانے، حق و صداقت پر ثابت قدم رہنے اور دینِ اسلام کی حقیقی روح کو زندہ رکھنے کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی اصلاح ہر فرد کی ذمہ داری ہے اور اگر کوئی شخص اپنے معاشرے میں ناانصافی، ظلم یا برائی کو دیکھ کر خاموش رہے تو وہ بھی اس برائی کے پھیلنے میں برابر کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خاموشی بعض اوقات ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف بن جاتی ہے، اس لیے ہر فرد کو حکمت، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ حق کا ساتھ دینا اور باطل کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: اربعین حسینی ظلم و استبداد کے خلاف مزاحمت کا پیغام ہے، شیخ ابراہیم زکزاکی
انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ امام حسینؑ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں، معاشرے میں اتحاد، اخوت، بھائی چارے اور دینی اقدار کو فروغ دیں اور ہر حال میں حق، انصاف اور سچائی کا ساتھ دیں۔ مجلس کے اختتام پر جلوسِ ذوالجناح برآمد ہوا، جس میں ہزاروں عزاداران نے نوحہ خوانی، سینہ زنی اور پرسہ داری کے ذریعے حضرت امام حسینؑ، حضرت عباسؑ اور دیگر شہدائے کربلا کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا اختتامی مقام پر پہنچا، جہاں عالمِ اسلام، ملک و ملت، اتحادِ امت اور تمام مومنین و مومنات کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔







