عالمی یوم امن پر اقوام متحدہ کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے، علامہ ساجد علی نقوی

22 ستمبر, 2026 08:49

شیعیت نیوز : علامہ سید ساجد علی نقوی نے 21 ستمبر، عالمی یوم امن کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 1952ء سے اقوام متحدہ اس دن کو امن کے عالمی دن کے طور پر منا رہا ہے۔ اقوام متحدہ غزہ سے سوڈان، یمن اور میانمار تک انسانی بحرانوں کا تذکرہ کر چکا ہے اور حالیہ دنوں میں تہران کے میناب اسکول کو بھی جنگی جرائم کے تناظر میں شامل کیا گیا، مگر سامراجی صدر کا غیر سنجیدہ اور دھمکی آمیز رویہ بدترین امن دشمنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی یوم امن ایسے موقع پر آیا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہونے جا رہا ہے، مگر جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں مسئلہ فلسطین کا کئی عشروں گزرنے کے باوجود حل نہ ہونا اس نمائندہ عالمی ادارے کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی: مجلس وحدت مسلمین کے پہلے سہ ماہی ڈویژنل شوریٰ اجلاس کا انعقاد

علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ جنگیں مزید مسائل اور انسانی المیوں کو جنم دیتی ہیں۔ طاقت کے استعمال نے انسانیت کو امن کے دل فریب نعروں کے ساتھ تہہ تیغ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نت نئے حیلے بہانوں اور سازشوں کے ذریعے مظالم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اب ایک اور منصوبے کے تحت ناجائز ریاست اسرائیل کا راستہ مزید ہموار کیا جا رہا ہے، جس کا راستہ روکنا لازم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک عالمی، ریاستی اور معاشرتی سطح پر محکوم عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم نہیں کیے جاتے، اور جب تک بھارت اور اسرائیل جیسی غاصب ریاستیں مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھاتی رہیں گی، دنیا میں پائیدار امن ہرگز قائم نہیں ہو سکتا۔

9:29 صبح ستمبر 22, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔