حماس سربراہ: غزہ میں 112 شہداء کے پیکر صہیونی جرائم کا زندہ ثبوت ہیں، 9 ہزار سے زائد شہید ابھی تک دفن نہیں ہوئے
غزہ
شیعیت نیوز : حماس کے سربراہ خلیل الحیہ نے کہا ہے کہ غزہ میں 112 شہداء کے پیکر صہیونی جرائم کا زندہ ثبوت ہیں۔ یہ شہداء ابوشریعہ اور الحساینیہ خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے، جنہیں قابض و نسل پرست صہیونی رجیم نے ایک عمارت پر بمباری میں شہید کر دیا تھا۔ ان کے پیکر تقریباً تین سال بعد ملبے سے نکالے گئے۔ انہوں نے اس قتل عام کو غزہ پٹی میں نسل کشی کی جنگ کے دوران ہونے والے سب سے بڑے اور سنگین جرائم میں سے ایک قرار دیا۔
فلسطینی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ابھی تک 9 ہزار سے زائد شہیدوں کو دفن نہیں کیا جا سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی رجیم نے صرف کاغذوں پر قتل عام روکا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ اب بھی فلسطینیوں کو قتل کر رہی ہے اور پچھلے 24 گھنٹوں میں 20 سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر شہید خواتین، بچے اور عام شہری ہیں، اور دشمن نے انہیں شہداء کی باوقار تدفین سے بھی محروم کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیو یارک ٹائمز اور روئٹرز کی رپورٹ: ایران اور امریکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر ابتدائی فریم ورک پر متفق
البرش نے کہا کہ غزہ کا سانحہ صرف شہداء کی تعداد نہیں بلکہ ان خاندانوں کی تعداد ہے جو مکمل طور پر ختم ہو گئے اور وہ گھر جو اجتماعی قبرستان بن گئے۔ منگل کو غزہ میں 112 شہداء کا سب سے بڑا جنازہ دیکھنے میں آیا، جہاں سول ڈیفنس کے ترجمان نے عالمی برادری سے سوال کیا کہ غزہ میں بچے کیوں مارے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، ابوشریعہ اور الحساینیہ خاندانوں کے 308 افراد شہید یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔ قابض صہیونی رجیم جنگ بندی کے باوجود اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ عالمی برادری کی خاموشی نے صہیونی جرائم کو مزید بڑھاوا دیا ہے، جبکہ محورِ مقاومت اپنی بھرپور کوششوں کے ذریعے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔







