اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہمارا آئینی حق ہے، پرامن جلسوں سے کیوں ڈرتے ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
علامہ راجہ ناصر عباس
شیعیت نیوز : وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان اور قائد حزب اختلاف سینیٹ، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانا ایک مہذب طریقہ سمجھا جاتا ہے اور آئین و قانون بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس طرح جماعتِ اسلامی اور مولانا فضل الرحمن کو ملک بھر میں مارچ اور جلسے کرنے کی اجازت ہے، تو پھر پی ٹی آئی اور ہمارے پرامن جلسوں سے حکومت کیوں ڈرتی ہے؟ ہم سب پاکستانی ہیں اور پرامن احتجاج ہمارا بھی بنیادی حق ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے واضح کیا کہ ہمیشہ پرامن جلسے ہی نتیجہ دیتے ہیں، متشدد کارروائیاں درست نہیں۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ سپریم کورٹ اور عدلیہ کی بات نہیں مانتے، بلکہ عدلیہ کو مفلوج کرتے ہیں۔ آپ ہمارے لیے قانونی راستے بند کر دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم آواز بھی نہ اٹھائیں۔ کیا یہ پاکستان صرف حکمرانوں کی مرضی کا ہے کہ ان کے نزدیک دوسروں کے لیے ایک قانون اور ہمارے لیے الگ قانون ہو؟
یہ بھی پڑھیں : سید امین شیرازی آئی ایس او پاکستان کا دوبارہ مرکزی صدر منتخب
اپوزیشن لیڈر سینیٹ نے کہا کہ حکومت پہلے سے ہی دھمکیاں دیتی ہے کہ گولی مارنے کا آرڈر دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی بہن کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تھری ایم پی او (3 MPO) کے تحت یہ کہہ کر کوٹ لکھپت جیل میں بند کر دیا گیا کہ ان سے امنِ عامہ کو خطرہ ہے۔
انہوں نے حکومت کے رویے کو فاشزم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی خواتین کو دہشت گرد ڈکلیئر کیا ہوا ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے پرزور مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کے بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔






