برکس اجلاس: غزہ سے جبری بے دخلی کی مخالفت، لبنان سے اسرائیلی انخلاء اور قرارداد 1701 پر عمل درآمد کا مطالبہ
برکس اجلاس
شیعیت نیوز : بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں منعقدہ برکس ممالک کے 18ویں سربراہی اجلاس کے پہلے روز ’’اعلامیہ نئی دہلی‘‘ متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ اعلامیے میں غزہ سے فلسطینیوں کی کسی بھی قسم کی جبری بے دخلی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے ان کے جائز حقوق بالخصوص حقِ خودارادیت اور واپسی کے حق کی بھرپور حمایت کی گئی ہے، جبکہ لبنان میں جنگ بندی کی پاسداری اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
برکس رہنماؤں نے غزہ میں جاری تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف پُرامن طریقوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے ان تمام اقدامات کی مذمت کی جو فلسطینیوں کے مسلمہ حقوق کو کمزور یا قبضے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، رکن ممالک نے شام کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام فریقوں سے ایک جامع سیاسی عمل کی حمایت کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ اور ایران تنازع کی بنیادی وجہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت ہے، ملائیشین وزیراعظم
لبنان کے حوالے سے برکس ارکان نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر تمام فریقوں کی جانب سے مکمل عمل درآمد پر زور دیا۔ انہوں نے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ لبنانی حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کرے اور لبنانی سرزمین کے باقی ماندہ تمام مقبوضہ علاقوں سے اپنی فوج فوری واپس بلائے۔
نئی دہلی اعلامیے میں سوڈان، ایران اور یوکرین سمیت دیگر عالمی تنازعات کے پُرامن حل، جنگ بندی اور بحرانوں کی بنیادی وجوہات کے ازالے کے لیے سفارتی ذرائع کے استعمال پر زور دیا گیا۔ علاوہ ازیں، برکس رہنماؤں نے جوہری تصادم کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی تخفیفِ اسلحہ اور شہری و پُرامن جوہری تنصیبات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ رکن ممالک نے بین الاقوامی قانون کے منافی یکطرفہ اور امتیازی پابندیوں کی صریح مخالفت کی۔ واضح رہے کہ 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والے اس اجلاس میں عالمی حکمرانی، تجارتی تعاون اور علاقائی بحرانوں پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔







