یزیدی سعودی رجیم ایک اسٹریٹجک بحران میں پھنس چکی ہے، فارن پالیسی

06 اگست, 2026 10:52

شیعیت نیوز : معروف امریکی جریدے فارن پالیسی نے ایک تفصیلی رپورٹ میں سعودی عرب کی موجودہ مشکلات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض کی پوزیشن کو کمزور کرنے میں اس کی اپنی غلط پالیسیوں کے ساتھ ساتھ امریکی قیادت کے بعض فیصلوں کا بھی کلیدی کردار ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور انصار اللہ (حوثیوں) کے درمیان حالیہ کشیدگی غیر ضروری اور غلط اندازوں کا نتیجہ ہے، اور یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ ریاض نے انصار اللہ کے ساتھ محاذ آرائی کا راستہ کیوں اختیار کیا۔

فارن پالیسی نے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس کارروائی کا مقصد مبینہ طور پر اس طیارے کو اترنے سے روکنا تھا جو شہید امام خامنہ ایؒ کی تشییع جنازہ میں شرکت کے بعد انصار اللہ کے وفد کو واپس یمن لے جا رہا تھا۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ اگر اس پرواز کو اقوام متحدہ کی کسی قرارداد کی خلاف ورزی بھی تصور کیا جاتا، تب بھی صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنانا غیر ضروری اقدام تھا، جبکہ اس طیارے کو اترنے کی اجازت دینا نسبتاً آسان اور کم لاگت فیصلہ ہو سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: یزیدی آل سعود رجیم پر الٰہی عذاب کا نزول

جریدے نے واضح کیا کہ سعودی عرب اس وقت عملی طور پر انصار اللہ کے مقابلے میں تنہا کھڑا ہے اور اس کے عرب ہمسایوں میں سے کسی نے بھی کھل کر اس کا ساتھ نہیں دیا، کیونکہ بیشتر علاقائی ممالک انصار اللہ کے ساتھ براہِ راست تصادم کے خطرات مول لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ رپورٹ نے امریکی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت نے سعودی عرب کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ٹرمپ کی مبینہ "ایپک ریج” پالیسی نے خلیج فارس کے مغربی ساحل پر واقع ممالک کے مقابلے میں ایران کی پوزیشن کو مضبوط کیا، جبکہ یہ امکان بھی موجود ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے بعد اپنے علاقائی اتحادیوں کو تنہا چھوڑ دے۔

فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر کہا کہ سال 2026 سعودی عرب کے لیے ایک مشکل سال ثابت ہوا ہے۔ جریدے کے مطابق مختلف علاقائی و بین الاقوامی فریقوں کی حمایت خریدنے یا انہیں راضی رکھنے کی پالیسی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکی اور اگر ریاض خطے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرتے ہوئے علاقائی حقائق اور اسٹریٹجک ماحول کو زیادہ گہرائی سے سمجھنا ہوگا۔

یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ منافق عرب حکمران، جنہوں نے غزہ میں 20,000 معصوم بچوں کے قتل پر خاموشی اختیار کی اور یمن کے خلاف 14 ممالک کا اتحاد بنا کر اپنی یزیدی سوچ کا مظاہرہ کیا، آج اپنی ہی پالیسیوں کا شکار ہیں۔ ان کا انجام یزید کی طرح جہنم واصل ہوگا، جبکہ مقاومتی محاذ، بشمول ایران، حماس، حزب اللہ اور انصار اللہ، روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

12:09 شام اگست 6, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔