دہشتگرد سعودی عرب کا یمن کے خلاف 14 ممالک پر مشتمل اتحاد، غزہ کے لیے دو ملکی اتحاد بھی نہ بن سکا
شیعیت نیوز : سعودی عرب نے یمن کے خلاف 14 ممالک پر مشتمل ایک نیا اتحاد تشکیل دے دیا ہے، جسے لانچ کرنے کے لیے تمام فریقین راضی ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ سعودی عرب ہی ہے جس نے گزشتہ برسوں سے یمن کے خلاف تباہ کن جنگ چھیڑ رکھی ہے اور ہزاروں یمنی شہریوں کی موت کا ذمہ دار ہے۔
دوسری جانب غزہ میں فلسطینی مظلومین کی بدترین نسل کشی ہوئی، جہاں 20,000 سے زائد معصوم بچوں کو ذبح کیا گیا، عورتوں اور بوڑھوں کو شہید کیا گیا، ہسپتالوں، سکولوں اور رہائشی علاقوں کو تباہ کیا گیا، مگر آلِ سعود اس المیے پر ٹس سے مس نہ ہوئے۔ غزہ کے مظلومین کی مدد کے لیے دو ملکی اتحاد بھی نہ بن سکا، جبکہ آلِ سعود یمن کے خلاف 14 ممالک کا اتحاد بنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر مخبر کا امریکہ کو دوٹوک جواب، تم فوجی حساب لگاتے ہو ہم تاریخ کی منطق سے جواب دیتے ہیں
یہ منظر مسلمانوں کی صف میں موجود منافقت کو عیاں کرتا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن کے عوام کو بمبارڈ کر رہے ہیں، تو دوسری طرف غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف کوئی عملی اقدامات نہیں کر رہے۔ فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا دل دہل گیا، مگر سعودی حکمرانوں کی خاموشی نے ان کی حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے عراق میں امریکی-سعودی جارحیت کے خلاف عوامی تحریک کے 20 شہداء، یمن کے ریاض پر حملے، اور اردن میں امریکی اڈے پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کی خبریں سامنے آ چکی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقاومتی محاذ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ سعودی عرب اپنے مفادات کے لیے دوسری مسلم قوموں کے خلاف اتحاد بنا رہا ہے۔







