حماس کا دوٹوک اعلان، ہتھیار ڈالنا کبھی ممکن نہیں، یہ موضوع مذاکرات کی میز پر آ ہی نہیں سکتا
خالد قدومی
شیعیت نیوز : ایران میں فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے نمائندے خالد قدومی نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کسی بھی صورت اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور نہ ہی اس معاملے کو اسرائیل کے ساتھ کسی مذاکرات کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
خالد قدومی نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ہتھیار ان کا بنیادی حق ہیں اور صہیونی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اس موضوع پر کسی قسم کی بات چیت یا سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حماس اپنے اس اصولی موقف سے کسی بھی حالت میں دستبردار نہیں ہوگی اور مزاحمتی قوتوں کے ہتھیار ناقابلِ مذاکرات ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علاقائی اور بین الاقوامی ثالث غزہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور مشاورت میں حماس کے ہتھیاروں کے مستقبل اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا جیسے امور زیرِ بحث ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اربعینِ امام حسینؑ کا تاریخی جلوہ، مہران بارڈر سے 20 لاکھ سے زائد زائرین عراق پہنچ گئے
حماس نے اپنے ہتھیاروں کے معاملے پر کسی بھی قسم کی بات چیت کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ مزاحمت کے ہتھیار فلسطینی عوام کی آزادی اور تحفظ کی آخری ضمانت ہیں جنہیں کسی سودے بازی کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق حماس کا یہ موقف ثابت کرتا ہے کہ غزہ کی مزاحمت نہ کسی دباؤ میں آئی ہے اور نہ آئے گی اور اسرائیل کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ فلسطینی عوام کا حقِ مزاحمت کسی مذاکرات میں نہیں چھینا جا سکتا۔







