الحشد الشعبی کے مراکز پر حملہ، عراق کی خودمختاری پر حملہ ہے، عراقی سابق وزیراعظم
شیعیت نیوز : تعمیر و ترقی اتحاد کے سربراہ محمد شیاع السودانی نے حشد الشعبی کے مراکز کو نشانہ بنانے والے سعودی امریکی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عراق کی خودمختاری پر کھلا حملہ ہے۔
السودانی نے کہا کہ یہ حملہ عراق کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، اسلامی اخوت کے اصول پر خطرناک حملہ اور بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اپنی سرکاری پالیسی کے تحت پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس حملے کا وقت کئی سوالات جنم دیتا ہے کیونکہ عراقی حکومت نے سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی تھیں جو اس بات کا ثبوت تھا کہ عراق مسائل کو قانونی طریقوں سے حل کرنا چاہتا ہے نہ کہ فوجی کشیدگی بڑھا کر، مگر سعودی عرب نے اسی لمحے حملہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی امریکی سعودی جارحیت کی شدید مذمت، عراق پر حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار
السودانی نے واضح کیا کہ عراق اپنی خودمختاری، سرزمین اور عوام کے دفاع کے لیے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل تمام قانونی حقوق محفوظ رکھتا ہے اور عراق کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو نہ قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ اس پر خاموشی اختیار کی جا سکتی ہے۔







