افغانستان میں شیعہ مسلمانوں کے حقوق پر پابندی قابل مذمت، یمنی مزاحمت کی حمایت کرتے ہیں، علامہ باقر زیدی

13 ستمبر, 2026 18:41

شیعیت نیوز : جعفریہ الائنس پاکستان کے ترجمان و نائب صدر علامہ باقر حسین زیدی نے افغانستان میں شیعہ مسلمانوں کے مذہبی، تعلیمی اور شہری حقوق کو محدود کرنے کی اطلاعات کو انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فقہ جعفریہ کسی مسلمان کے خلاف نہیں بلکہ اسلام کا ایک معتبر فقہی مکتبِ فکر ہے، اور اس پر پابندی عائد کرنا مذہبی آزادی، مسلکی تکثیریت اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کے صریح منافی ہے۔

علامہ باقر حسین زیدی نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) سے پرزور مطالبہ کیا کہ افغانستان میں اہلِ تشیع کو ان کے مذہبی عقائد کے مطابق عبادات، تعلیم، مذہبی شعائر اور فقہ جعفریہ کی تدریس کا مکمل حق دلوانے کے لیے افغان حکومت پر مؤثر اور عملی دباؤ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں مذہبی اکثریت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلم مکتبِ فکر کے پیروکاروں کو ان کے جائز مذہبی حقوق سے محروم کرے۔ انہوں نے تمام افغان شیعہ مسلمانوں، بالخصوص ہزارہ برادری کے تحفظ، مساوی شہری حقوق اور مکمل مذہبی آزادی کی ضمانت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اختلافِ مسلک کو جبر اور تشدد کا ذریعہ بنانا ہرگز قابلِ قبول نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : صلالہ میں ایران اور خلیجی ممالک کا اجلاس: معروف عرب تجزیہ کار نے کامیابی کی 6 اہم وجوہات بتا دیں

یمن کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان جعفریہ الائنس نے کہا کہ یمنی عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے، بیرونی مداخلت سے محفوظ رہنے اور ایک باعزت و پُرامن زندگی گزارنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ ہم یمنی عوام کی ملک میں موجود بیرونی پراکسیوں کے خلاف جائز مزاحمت اور خودمختاری کے حق کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یمن میں جاری کشیدگی کا حل فوجی تصادم کے بجائے سیاسی مذاکرات، قومی مفاہمت اور شہریوں کے تحفظ میں مضمر ہے۔ موجودہ کشیدگی کے سبب خطے میں علاقائی عدم استحکام کے خدشات بڑھ رہے ہیں، لہٰذا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ افغانستان اور یمن میں انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور شہری تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرے۔

7:43 شام ستمبر 13, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔