جے ایس او پاکستان کے مجلس عاملہ اجلاس میں علامہ عارف واحدی کا خطاب
شیعیت نیوز : اسلام آباد میں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (جے ایس او) پاکستان کے مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی، مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر، مجلس نظارت کے اراکین، ملک بھر سے آئے ہوئے طلبہ، نوجوان کارکنوں اور تنظیمی ذمہ داران نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد رمضان توقیر نے جے ایس او کے نوجوانوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے مفید تجاویز پیش کیں اور نوجوانوں کی فکری و تنظیمی صلاحیتوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
علامہ عارف حسین واحدی نے اپنے خطاب میں جے ایس او پاکستان کے مرکزی صدر سید فتح رضوی کو کامیاب اور منظم اجلاس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قوم اور معاشرے کے نوجوان اس کی ریڑھ کی ہڈی اور قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ جے ایس او کے نوجوان ہمارے لیے باعث فخر ہیں جو مکتب اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور سیرت طیبہ کی روشنی میں اپنی دینی، تعلیمی اور فکری تربیت حاصل کرتے ہوئے اپنی قیادت سے وابستہ ہیں اور اپنے اہداف کی جانب بھرپور انداز میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔
انہوں نے تنظیم کی مضبوطی اور ترقی کے لیے تین بنیادی امور پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ پہلا اہم نکتہ اخلاقی و روحانی تربیت ہے۔ ہر کارکن کو چاہیے کہ اپنی اخلاقی اصلاح، تزکیۂ نفس اور رضائے الٰہی کے حصول کو اپنی جدوجہد کا محور بنائے، کیونکہ مضبوط کردار ہی مضبوط تنظیم کی بنیاد ہوتا ہے۔
انہوں نے تنظیمی تربیت کو دوسرا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ کارکن اپنے سینئرز سے رہنمائی حاصل کریں، تنظیمی اصول و ضوابط کی پابندی کریں اور یہ احساس ہمیشہ زندہ رکھیں کہ انہوں نے ایک عظیم مقصد کے لیے تنظیم کا انتخاب کیا ہے۔ تنظیم بذات خود مقصد نہیں بلکہ اعلیٰ مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اگر کہیں کمزوری یا خامی موجود ہو تو کارکن تنظیمی آداب کے دائرے میں رہتے ہوئے تعمیری تنقید کریں جبکہ ذمہ داران کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کریں، کارکنوں کو مطمئن کریں اور موجود خامیوں کے ازالے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھیں : رہبر شہید کی قربانی نے عالم اسلام کو مقاومت، استقامت اور ولایت کا پیغام دیا، علامہ سید ظہیر الحسنین شیرازی
علامہ عارف واحدی نے سیاسی تربیت کو تیسرا بنیادی تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ کارکنوں کا قومی پلیٹ فارم شیعہ علماء کونسل پاکستان اور اس کا سیاسی و عوامی پلیٹ فارم اسلامی تحریک پاکستان ہے، اس لیے نوجوانوں کا ملکی، علاقائی اور عالمی سیاسی حالات سے باخبر رہنا ناگزیر ہے۔ کارکنوں کو قومی اور بین الاقوامی صورتحال کا گہرا شعور حاصل کرنا چاہیے، تنظیمی کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ اسلامی تحریک پاکستان موجودہ سیاسی منظرنامے میں کیا کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات کے نتائج اور حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ جہاں کمزوریاں موجود ہوں انہیں دور کیا جا سکے اور مثبت پہلوؤں سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔
علامہ عارف حسین واحدی نے رہبر شہید امام خامنہ ای کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جہاں روح کربلا زندہ ہوگی اور خیبر شکن حضرت امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کی شجاعت کے وارث موجود ہوں گے وہاں دنیا کی شیطانی اور سامراجی یزیدی قوتیں ہمیشہ رسوا کن شکست سے دوچار ہوتی رہیں گی، ان شاء اللہ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے پاس نمائندۂ ولی فقیہ، قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی جیسی مدبر، باصلاحیت اور بابصیرت قیادت موجود ہے۔ ان شاء اللہ ہم اسی قیادت کی رہنمائی میں اتحاد، نظم و ضبط اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے، قائد کے بازو مضبوط کریں گے اور جے ایس او پاکستان اور شیعہ علماء کونسل پاکستان مل کر ملک و معاشرے میں مثبت تبدیلی، قومی وحدت اور دینی اقدار کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر ملک کے مختلف علاقوں سے شدید گرمی کے باوجود اجلاس میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا جذبہ، اخلاص اور مقصد سے وابستگی مستقبل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی دینی، تعلیمی اور تنظیمی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔
اجلاس کے اختتام پر سوال و جواب کی خصوصی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں نوجوان کارکنوں نے مختلف تنظیمی، فکری، سیاسی اور دینی موضوعات پر سوالات کیے۔ علامہ عارف حسین واحدی نے ان سوالات کے مدلل، جامع اور اطمینان بخش جوابات دیے، جنہیں شرکاء نے بے حد سراہا۔







