قائداعظم کا یومِ وفات محض تاریخ نہیں بلکہ یومِ خود احتسابی ہے، علامہ سید ساجد علی نقوی

11 ستمبر, 2026 19:24

شیعیت نیوز : علامہ سید ساجد علی نقوی نے 11 ستمبر بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے 78ویں یومِ وفات کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایسی غیرمعمولی، نظریاتی اور دوراندیش شخصیات اور قیادت صدیوں میں قوموں کو میسر آتی ہیں۔ ان کی انتھک محنت، عزم اور برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم جدوجہد کے نتیجے میں ایک آزاد اور خودمختار مملکت کا قیام عمل میں آیا، تاہم سات دہائیاں گزرنے کے باوجود پاکستان آج بھی معاشی و داخلی استحکام کا منتظر ہے اور عوام اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ 11 ستمبر محض بابائے قوم کا یومِ وفات نہیں بلکہ یومِ خود احتسابی بھی ہے۔ ہمیں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ اس عظیم ہستی اور دیگر اکابرین کی جانب سے آزاد مملکت کی صورت میں ملنے والی امانت کے ساتھ ہم نے کس حد تک انصاف کیا ہے۔ پاکستان کا قیام محض سرحدوں کی تقسیم کا نتیجہ نہیں بلکہ مضبوط دو قومی نظریے کی بنیاد پر ایک آزاد ریاست کا وجود میں آنا تھا، جس کے لیے لاکھوں افراد نے عظیم قربانیاں دیں اور ہجرت کی۔

یہ بھی پڑھیں : ایران اور امریکہ اسلام آباد معاہدے کے تحت مذاکرات کی طرف واپس آئیں، پاکستانی سفیر

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ دفاعی اعتبار سے ملک کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف ادوار میں اقدامات ضرور کیے گئے، تاہم ناپائیدار پالیسیوں کے باعث پاکستان بیرونی قرضوں کے جال میں پھنستا چلا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج 79 سال بعد بھی ملکی نظام اور پالیسیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور انگشت نمائی کا سلسلہ جاری رہنا ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے، جس کے ازالے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انگریز دور کے ظالمانہ قوانین اور بنیادی حقوق سے متصادم پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے، قانون کی حکمرانی اور میرٹ پر مبنی نظام قائم کیا جائے اور کسی بھی نئے صوبے کے قیام پر حقیقی قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قانون کی حکمرانی، میرٹ اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے قومی مفاد میں مؤثر و مستقل پالیسیاں تشکیل دی جائیں تو پاکستان قرض دار ممالک کی فہرست سے نکل کر حقیقی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

7:41 شام ستمبر 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔