تکفیری اور فرقہ پرستوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، ڈاکٹر عبدالغفور راشد
شیعیت نیوز : مرکزی جمعیت اہلحدیث کے 79ویں یوم تاسیس کی تقریب بعنوان ’’تجدید عزم سیمینار‘‘ نائب امیر اور ممبر اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر عبدالغفور راشد کی زیر صدارت مرکز اہل حدیث راوی روڈ میں منعقد ہوئی۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اسلام کی سربلندی کے لیے دن رات کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ہم فرقہ بازی، فرقہ واریت اور تکفیریت پر یقین نہیں رکھتے اور سمجھتے ہیں کہ تکفیری اور فرقہ پرست عناصر کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اندرون بیرون ملک سازشیں کر رہے ہیں، ان کی ہم نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ ان کے کھلے مخالف بھی ہیں۔ ہم ریاست اور حکومت پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے کہا کہ فتنہ الخوارج نے جو بھیانک کردار ادا کیا ہے ان کے خلاف ہماری بہادر افواج کا کردار قابل تعریف ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ان شاءاللہ ملکی تحفظ کے لیے ہم ریاست اور حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ ہوں گے۔
سیمینار سے مولانا عبدالرشید حجازی، ڈاکٹر محمد حماد لکھوی، حافظ یونس آزاد، حافظ سلمان اعظم، ڈاکٹر امان اللہ بھٹی، حافظ ممتاز حسین اور ڈاکٹر ابراہیم سلفی نے بھی خطاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں : خاران میں کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کا سی ٹی ڈی قافلے پر حملہ
ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث مغربی پاکستان کی بنیاد 24 جولائی 1948ء کو لاہور میں رکھی گئی۔ اس کے تاسیسی اجلاس کی صدارت پروفیسر ساجد میر کے جد امجد مولانا ابراہیم سیالکوٹی نے کی تھی، جو تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے اور ان کو سرکاری اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ اس کے پہلے صدر مولانا سید داود غزنوی، سیکرٹری جنرل پروفیسر عبدالقیوم جبکہ میاں عبدالمجید مانڈوا ناظم مالیات تھے۔
ان کے بعد بڑے بڑے اکابرین نے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے پلیٹ فارم سے تنظیمی اور دینی خدمات سرانجام دیں۔ جن میں مولانا اسماعیل سلفی، مولانا معین الدین لکھوی، حافظ محمد گوندل، میاں فضل حق، پروفیسر ساجد میر، مولانا احسان الٰہی ظہیر، مولانا احسان اللہ جیسے بڑی برگزیدہ شخصیات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت مرکزی جمعیت اہل حدیث مسلک اہل حدیث کی بڑی نمائندہ جماعت تھی اور آج بھی انہیں بنیادوں پر قائم ہے جن بنیادوں پر یہ جماعت تشکیل دی گئی تھی۔ ان میں اسلام کی آبیاری اور وطن عزیز کا تحفظ سرفہرست تھا۔
ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے کہا کہ ہمارا آج کا نوجوان، بزرگ بڑا چھوٹے تمام اسلام کے ساتھ وابستگی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہماری جماعت کا بنیادی منشور دعوت دین تھا، لیکن دعوت دین کے لیے ہم ملکی استحکام کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔ ہمارے اکابرین اہل حدیث نے تحریک پاکستان میں بھی متحرک کردار ادا کیا۔







