شعائرِ حسینیؑ کی توہین کسی صورت برداشت نہیں، علامہ شبیر حسن میثمی
شیعیت نیوز : مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں 9 صفر المظفر 1448ھ بمطابق 24 جولائی 2026ء کے خطبۂ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا کہ ماہِ صفر اہلِ بیتؑ کے چاہنے والوں کے لیے آزمائش اور صبر کا مہینہ ہے، لہٰذا مؤمنین دعا، نماز اور صدقہ کا خصوصی اہتمام کریں تاکہ اللہ تعالیٰ بلاؤں کو دور فرمائے۔
انہوں نے واقعۂ کربلا کے بعد دربارِ یزید میں حضرت امام زین العابدینؑ کے تاریخی خطبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیتؑ کے پیغام کو دبانے کی ہمیشہ کوشش کی گئی لیکن امام سجادؑ نے انتہائی کٹھن حالات میں بھی حق و حقیقت کو بیان کیا اور باطل کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا۔
علامہ میثمی نے سندھ میں حضرت امام حسینؑ اور شعائرِ حسینی کی توہین کے بعض واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیتؑ کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ علماء کونسل نے اس معاملے میں قانونی کارروائی کرائی ہے، تاہم تمام محبانِ اہلِ بیتؑ کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔
مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان نے بعض چوکوں کے نام تبدیل کیے جانے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ متنازع ناموں کو فوری طور پر تبدیل کرکے مناسب اور قابلِ قبول نام بحال کیے جائیں، بصورتِ دیگر عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
علامہ شبیر میثمی نے خطبۂ ثانی میں پاکستان میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے ذمہ دار عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے مہنگائی، بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور بے روزگاری پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے صاحبِ استطاعت افراد پر زور دیا کہ یتیموں، بیواؤں اور کم آمدنی والے افراد کی مدد کریں۔
یہ بھی پڑھیں : نوابزادہ لشکری رئیسانی کی مجلس وحدت مسلمین وفد سے ملاقات
انہوں نے اسراف سے اجتناب، سادہ شادیوں کے فروغ اور معاشرتی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں فضول اخراجات سے بچنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عالمِ اسلام کی موجودہ صورتِ حال، فلسطین، ایران اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ظلم کے مقابلے میں استقامت ہی حسینی مکتب کا بنیادی پیغام ہے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے دانشمندانہ فیصلے کیے جائیں۔
علامہ میثمی نے اربعین حسینی کے موقع پر عائد پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عزاداروں کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کی مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے سیلابی صورتحال کے پیش نظر حکومت اور عوام دونوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور متاثرین کی مدد کرنے کی تلقین کی۔
آخر میں علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے عزاداری کے دوران تقسیم کیے جانے والے تبرکات اور نیاز کے معیار کا خیال رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی صحت اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھنا بھی دینی ذمہ داری ہے۔







