اربعین اور انقلاب دونوں ایک دوسرے کے تکمیلی محاذ ہیں، حجت الاسلام علی رضا پناہیان

20 جولائی, 2026 12:09

شیعیت نیوز : حجت الاسلام علی رضا پناہیان نے تہران میں حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے سے گفتگو میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ ملک کے موجودہ اہم حالات میں اربعین کے حوالے سے سب سے اہم مسئلہ اہلِ ایمان اور انقلابی قوتوں کی ذمہ داری کا تعین ہے، کہا کہ ہمیں اربعین میں شرکت اور انقلاب کے دفاع کے لیے میدان میں موجود رہنے، دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے، کیونکہ یہ دونوں قابلِ جمع ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اربعین میں شرکت یا عدم شرکت کے بارے میں کوئی عمومی حکم نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ہر شخص کی ذمہ داریاں مختلف ہوتی ہیں۔ بعض افراد، جیسے مواکب کے منتظمین، قافلوں کے ذمہ داران یا وہ لوگ جن کے عراقی عوام سے مؤثر روابط ہیں، اربعین میں خصوصی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ جبکہ کچھ افراد اپنے شہروں اور علاقوں میں انقلابی سرگرمیوں اور میدان کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، اور اگر وہ اپنی جگہ چھوڑ دیں تو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ہر شخص کا فریضہ اس کے حالات کے مطابق طے ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کا وفد شہید رہبر کے مراسم میں شرکت کر کے واپس

حجت الاسلام پناہیان نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال ایسی نہیں کہ یہ کہا جائے کہ اربعین میں شرکت بالکل جائز نہیں، کیونکہ الحمدللہ میدان کو سنبھالنے کے لیے کافی افراد موجود ہیں۔ ان کے مطابق، ان کے مشاہدے میں زیادہ تر علاقوں میں آدھے سے بھی کم لوگوں نے اربعین میں جانے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، لہٰذا میدان خالی نہیں ہوں گے۔

حوزہ اور یونیورسٹی کے استاد نے کہا کہ بعض لوگ اربعین کو صرف ایک مستحب زیارت سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس کی خاطر انقلاب کا میدان نہیں چھوڑنا چاہیے، حالانکہ یہ سوچ اربعین کی حقیقت سے ناواقف ہے۔ اربعین خود انقلاب کا میدان ہے، لیکن عالمی اور علاقائی سطح پر۔ ہم نے مقاومت، ایثار اور میدان داری کے بہت سے اسباق اربعین سے سیکھے ہیں۔ اربعین تہذیب ساز، شہید پرور اور محاذِ مقاومت کو مضبوط کرنے والی عظیم تحریک ہے۔

3:33 صبح جولائی 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔