وزیراعظم پاکستان سے گزارش: دبئی میں پاکستانی شہریوں پر مبینہ تشدد اور ڈی پورٹیشن پر احتجاج کیوں نہیں؟

21 جون, 2026 15:17

شیعیت نیوز : جناب وزیر اعظم، اسلامی جمہوریہ پاکستان سب سے پہلے ہمیں فخر ہے کہ آپ کی قیادت نے دو بڑی طاقتوں کے درمیان صلح کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

لیکن آپ سے کچھ گزارشات ہیں کہ جنگ امریکہ اور ایران کے درمیان تھی اور ایک قریبی دوست ملک یعنی متحدہ عرب امارات نے آپ کے شہریوں کو بغیر کسی جرم کے ڈی پورٹ کرایا۔ آج تک حکومت پاکستان اور ریاست پاکستان نے اس معاملے پر کوئی احتجاج نہیں کیا؟

یہ نہ صرف آئین پاکستان بلکہ عالمی امیگریشن اور لیبر قوانین کی تضحیک ہے۔ حکومت پاکستان اور ریاست پاکستان کی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متحدہ عرب امارات نے ظلم کے انبار ڈالنے شروع کر دیے ہیں۔

جناب وزیر اعظم، آپ کے شہریوں کو جیلوں میں ننگا کیا گیا اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ ستم کا سلسلہ بڑھتا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : جامشورو، سبیل امام حسینؑ کےخلاف کارروائی،دو کم سن عزادارگرفتار

نیچے تصویر میں ایک نوجوان کو قید کے دوران تشدد کا نشانہ بنا کر اس کی لاش آب حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔

کیا حکومت پاکستان کسی امارتی شہری کو بغیر کسی جرم کے ایک گھنٹہ پاکستان کے کسی جیل میں رکھ سکتی ہے؟ اور اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو امارتی حکومت کا رویہ پھر کیا ہوگا؟

جناب وزیر اعظم، کل یا پرسوں آپ جنیوا جا رہے ہیں — وہ جس کی آپ ہر وقت تعریف کرتے ہیں، جس نے فلسطین، غزہ، لبنان اور ایران کے معصوم بچوں کا قتل کروایا پھر بھی آپ نے اسے امن نوبل انعام کے لیے نامزد کیا، جسے آپ عالمی امن کا سفیر کہتے ہیں۔

اس کی کان میں یہ بتانا پسند کریں گے کہ غلام متحدہ عرب امارات کو تنبیہ کیا جائے کہ میرے پاکستان کے شہریوں، بالخصوص پاراچنار کے شہریوں کے ساتھ ظلم کا یہ رویہ بند کیا جائے۔

4:51 شام جون 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔