آیت اللہ جوادی آملی: رسولؐ کی رحلت امت کے لیے عظیم ترین مصیبت، کوئی دوسرا غم اس کے برابر نہیں

12 اگست, 2026 15:49

شیعیت نیوز : آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام کی روشنی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپؐ کی رحلت امت کے لیے ایسی عظیم مصیبت تھی کہ اس کے مقابلے میں دیگر تمام مصیبتیں معمولی اور حقیر دکھائی دیتی ہیں۔

آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے ایک خطاب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے عظیم صدمے کے بارے میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلمات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مصیبت کو تمام مصیبتوں سے عظیم قرار دیا ہے۔ انہوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اس فرمان کی طرف اشارہ کیا کہ: «وَإِنَّ الْمُصَابَ بِکَ لَجَلِیلٌ، وَإِنَّهُ قَبْلَکَ وَبَعْدَکَ لَجَلَلٌ» یعنی آپ کی رحلت کا صدمہ نہایت عظیم اور ناقابلِ برداشت ہے، جبکہ آپؐ کی رحلت سے پہلے اور اس کے بعد آنے والی دیگر مصیبتیں اس کے مقابلے میں معمولی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حضرت محمد مصطفیٰؐ انسانیت کی ہدایت کا مرکز و محور امام حسنؑ سیرتِ نبوی کا عملی نمونہ تھے، علامہ سید ساجد علی نقوی

آیت اللہ جوادی آملی نے وضاحت کی کہ یہاں «جَلِیل» سے مراد عظیم اور بہت بڑی مصیبت ہے، جبکہ «جَلَل» کے معنی معمولی اور حقیر کے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ایک دوسرے مقام پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بارے میں فرمایا: «لَقَدْ خَصَّصْتَ حَتَّی صِرْتَ مُسَلِّیًا عَمَّنْ سِوَاکَ، وَعَمَّمْتَ حَتَّی صَارَ النَّاسُ فِیکَ سَوَاءً» یعنی آپؐ کی مصیبت ایسی منفرد اور عظیم ہے کہ دوسری تمام مصیبتوں کے مقابلے میں آپؐ کی یاد انسان کے لیے باعثِ تسلی بن جاتی ہے۔

4:53 شام اگست 12, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔