عاشورہ اور اربعین کے مقدس ایام قریب آتے ہی زائرین کربلا نئی پابندیوں اور ذہنی اذیت کا شکار
شیعیت نیوز : عاشورہ اور اربعین حسینیؑ کے مقدس ایام جیسے جیسے نزدیک آتے ہیں، پاکستان کے عاشقان اہل بیتؑ جو سال بھر اپنی جمع پونجی سے زیارت کربلا کی تیاری کرتے ہیں، نئی پابندیوں، غیر یقینی صورتحال اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنے لگتے ہیں۔
قانونی پاسپورٹ، ویزہ اور دیگر تمام سفری تقاضے پورے کرنے کے باوجود ہر سال زائرین کے لیے نئی رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ کبھی سرحدوں کی بندش، کبھی سیکیورٹی خدشات، کبھی غیر قانونی تارکین وطن کے نام پر پابندیاں اور کبھی عمر کی شرائط نافذ کرکے ہزاروں افراد کو زیارت کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں ہر سال عوام کے کروڑوں روپے ضائع ہوتے ہیں اور لاکھوں دل دکھ اور پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : عقیدۂ امامت عقیدۂ توحید اور نبوت کا تکملہ ہے، علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی
پاکستان میں ٹورازم ڈیپارٹمنٹ سے رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ ٹریول ایجنسیوں کے ذریعے گروپوں کی صورت میں سفر کرنے والے زائرین کی مکمل تفصیلات، ذمہ داری اور نگرانی موجود ہوتی ہے۔ جب ایک منظم اور قانونی نظام پہلے سے موجود ہے تو پھر ہر سال نئی رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے مستقل، شفاف اور قابل عمل میکانزم کیوں نہیں بنایا جاتا؟
حکومت پاکستان اور حکومت عراق سے مؤدبانہ اپیل ہے کہ جرائم پیشہ عناصر اور انسانی اسمگلرز کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ کوئی مسلک۔ ان کے خلاف مؤثر قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں، مگر ان کے نام پر لاکھوں پرامن زائرین امام حسینؑ کو مشکلات اور اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔







