عقیدۂ امامت عقیدۂ توحید اور نبوت کا تکملہ ہے، علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی
شیعیت نیوز : کراچی: پاک محرم ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کے زیر اہتمام نشتر پارک کراچی میں عشرۂ محرم الحرام کی مرکزی پہلی مجلس عزا منعقد ہوئی۔
جس سے خطاب کرتے ہوئے خطیب پاکستان علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ عقیدۂ امامت، عقیدۂ توحید اور عقیدۂ نبوت کا تکملہ ہے، کیونکہ قرآن کریم کی رو سے امامت اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ منصب ہے۔ امامت نہ صرف انسان کی فکری اور شعوری تربیت کا ذریعہ ہے بلکہ ایک صالح معاشرے کی تشکیل اور انسانیت کی رہنمائی و حفاظت کا بھی ضامن ہے۔
انہوں نے سورۂ اسراء کی آیات 71 اور 72 کو سرنامۂ کلام قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے امام کے ساتھ بلایا جائے گا۔ اس سے امامت کی اہمیت اور انسان کی نجات میں اس کے بنیادی کردار کا اندازہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نواسۂ رسولؐ حضرت امام حسین علیہ السلام نورِ خدا اور چراغِ ہدایت ہیں، علامہ مقصود علی ڈومکی
علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام جن و انس کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے، اسی طرح حضرت علی علیہ السلام سے لے کر امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف تک تمام ائمہ اہل بیت علیہم السلام پوری انسانیت اور تمام جن و انس کے امام ہیں۔
انہوں نے واقعۂ کربلا کی عالمگیر اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کربلا ایک آفاقی اور ابدی تحریک ہے، جو ہر دور میں انسانیت کو حق، عدل اور آزادی کا درس دیتی ہے۔ اگر انسان باعزت اور بامقصد زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اسے ان شخصیات سے وابستہ ہونا ہوگا جو کبھی نہیں مرتیں۔
علامہ نقوی نے علامہ اقبالؒ کا شعر پڑھتے ہوئے کہا: "حقیقت ابدی ہے مقامِ شبیریؑ بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی”







